07 April 2007

گوگل ایڈورڈز اردو

adw.jpg
اب گوگل ایڈسینس پر اردو اشتہارات بھی دکھائے جا سکیں گے ۔ گوگل نے اپنی سروسAdwords کو اردو زبان میں متعارف کرایا ہے ۔ وہ اردو ویب سائیٹیں جو یونیکوڈ سٹینڈرڈ میں مواد فراہم کرتی ہیں ان پر اب Google Adsense کے اردو اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں ۔
مزید معلومات کے لیے دیکھیے
گوگل ایڈورڈز اردو

لیکن اس ضمن میں ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ آپ ایڈسینس پر اکاؤنٹ بناتے وقت اردو زبان کو منتخب نہیں کر سکتے ۔ یعنی آپ اردو ویب سائیٹ کے لیے ایڈسینس کا اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے مگر
اس پر اردو اشتہار ضرور چلا سکتے ہیں ۔

گوگل کی صوتی تلاش

انٹرنیٹ پر تلاش کرنے پر اجارہ داری قائم کرنے کے بعد اب گوگل صوتی تلاش کی دُنیا میں بھی قدم رکھ رہا ہے، فی الحال یہ سہولت امریکہ میں رہنے والوں کے لئے تجرباتی طور پر شروع کی گئی ہے۔ امریکہ میں لوکل معلومات کے لئے 411 کا استعمال کرتے ہیں، جہاں فون کرنے سے آپ اپنے اِردگِرد موجود کسی بھی مطلوبہ کاروبار کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔ جیسے آپ نیویارک میں ہیں اور آپ کو بچوں کے کھلونے خرینے ہیں آپ 411 پر نمبر ملائیں ، اپنا علاقہ بتائیں اور آپ کو وہاں قریبی دوکان کا پتہ اور فون نمبر بتا دیا جائے گا۔
گوگل کی طرف سے پیش کردہ اِس سہولت میں دو بنیادی تبدیلیاں ہیں، پہلی کہ یہ مکمل طور پر وائس ایکٹویٹڈ ہے مطلب آپ کو کسی انسان سے بات نہیں کرنا پڑے گی، آپ نمبر ملائیں مشین کو بتائیں کہ کیا چاہیے جیسے گوگل کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ پیزا کہیں اور قریبی پیزا کی دوکان سے آپ کا فون پر رابطہ ہو جائے گا۔
دوسری مختلف بات کہ یہ کال بالکل مُفت ہو گی نہیں تو 411 پر کال کرنے کے عموما کچھ نرخ ہوتے ہیں جو آپ کی فون فراہم کرنے والے ادارے پر انحصار کرتا ہے۔ گوگل کی طرف سے یہ کال بالکل مُفت ہے آپ کو صرف آپ کی فون کمپنی کے کال کے نرخ ادا کرنا ہوں گے کوئی اضافی قیمت نہیں۔
تیسری بات کہ آپ یہ سب اپنے موبائل پر SMS کے ذریعے بھی یہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے لئے گوگل
پر جائیں۔

03 April 2007

میری گردن اور سنہری پٹہ !!!

حضور ایک بات سے توآپ اتفاق کریں گے کہ آج کے دور میں چند خوشقسمت لوگ ہی اپنے موجودہ حالات، اپنے ماحول اور اپنے طرزِ زندگی سے خوش ہیں، چاہے دیس ہو یا بدیس، گورا ہو یا کالا۔ اکثریت تو بس آنے والے وقت کے بہتر ہونے کی اُمید میں وقت گزار رہی ہے یا پھر ماضی میں رہ کر خوش ہے۔ میرے محلے کے دکاندار کو ہی لیجئے۔ آج کی نوجوان نسل سے نالاں ہے۔ جناب یہ نسل تو بالکل نکمی ہے، کام کاج آتا نہیں، بڑے چھوٹے کی عزت نہیں، سگریٹ پان اور دوسرے نشوں کی رسیا۔ میں نے پوچھابھیا پھر آپ پان سگریٹ کیوں بیچتے ہو؟ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا جناب کیا کریں اس لعنت کے بغیر کاروبار میں مندہ ہوتا ہے، کوئی دکان پرہی نہیں آتا۔ ایک اخبار کے مالک سے پوچھا آپ عورتوں کی تصاویر کیوں چھاپتے ہیں؟ بولے اگر یہ نہ کریں تو رسالہ کون خریدے گا؟ ایک سیاستدان سے پوچھا جناب آپ جھوٹے وعدے کیوں کرتے ہیں؟ بولے بھیا آخر ووٹ بھی تو لینے ہیں اگر یہ وعدے نہ کروں تو آپ ووٹ دینگے بھلا؟ میں بغلیں جھانک کر ہی تو رہ گیا۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم سب مجبور ہیں؟ کیا ہماری زندگیوں کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے؟ یہ سب ویسا کیوں نہیں جیسا ہم چاہتے ہیں؟ کم از کم ہماری اپنی زندگی تو ہماری مرضی کی ہو، ساری دنیا کی تو بات ہی جانے دیجیے۔ پھر مجھے بچپن کی سنی ایک کہانی یاد آئی۔ ایک فاقہ حال جنگلی کتے کا موازنہ ایک ایسے شہری کتے سے کیا گیا تھا جسکی زندگی کے سب پہلو قابلِ رشک تھے، سوائے گردن میں بنے اس نشان کے جسکی وجہ مالک کا پہنایا ہوا سنہری پٹہ تھا۔ کبھی کبھی یہ نشان مجھے اپنی گردن پر بھی دکھائی دیتا ہے!
صاحبو تھوڑی بہت کوشش تو میں نے بھی کی تھی اس پٹے کو اتار پھینکنے کی ۔ پتہ نہیں اسمیں کامیابی کتنی ہوئی لیکن ایک فائدہ ضرور ہوا۔ پہلے دنیا جتنی گنجلک لگتی تھی، اب اس سے تھوڑی کم لگتی ہے۔ تھوڑا سا غور کیا تو اس دنیا میں بسنے والے انسان مجھے تین اقسام میں منقسم نظر آئے۔ جی ہاں بالکل ویسے ہی جیسے قدیم (اور گاہے عصری) ہندو معاشرہ چار قسم کے انسانوں میں تقسیم تھا۔ برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ یقین مانیے یہ تقسیم ہر معاشرے میں، ہر دور میں رہی ہے۔ کچھ لوگ ہمیشہ ہر معاشرے میں خاص رہے ہیں۔ آج بھی ہیں۔ انکی نمایاں خصوصیت تو یہ ہے کہ ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ اور بھی باتیں ہیں جو انہیں خاص بناتی ہیں۔ مثلاً کوئی مذہب نہیں رکھتے، پیسہ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور انسانی نفسیات پر گہرا عبور رکھتے ہیں، دل سے نہیں دماغ سے سوچتے ہیں، شہرت سے دور بھاگتے ہیں اسی لیے کم کم جانے جاتے ہیں۔ انکی زندگی کا ایک اور صرف ایک مقصد ہے۔۔۔ پیسہ، پیسہ اور بہت سارا پیسہ!
اب آتے ہیں دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ انکی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہی ہے، یعنی نمایاں ہونا۔ یہ بھی گرچہ اقلیت ہے لیکن آپکو ہر طرف یہی نظر آئیں گے۔ اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور کوئی بھی ایسی جگہ جہاں یہ نمایاں ہو سکیں۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے، یہ اداکار طبقہ ہے، نہیں نہیں صرف وہ نہیں جو ہالی وڈ، بالی وڈ یا ایسی دیگر جگہوں پر آپکو نظر آتا ہے۔ یہ تو اور بھی کئی مقامات پر پایا جاتا ہے مثلاً حکومتوں میں، سرکاری و غیرسرکاری اداروں میں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں، اقوامِ متحدہ، عالمی بنک اور اسی قبیل کے دیگر اداروں میں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمارے لئے رول ماڈلز (Role Models) ہیں یعنی ایک عام آدمی ان جیسا بننا چاہتا ہے، ان جیسا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، بولنا اور رہنا چاہتا ہے۔ ہمارے طرزِ زندگی (Lifestyles) انکی مرہونِ منت ہیں۔ ہمیں تہذیب یہ لوگ سکھاتے ہیں۔ ہمارا لباس، ہماری زبان، ہمارے رشتے سب پر انکا گہرا اثر ہے۔ یہ لوگ ہمارے دماغ، ہمارے تھنک ٹینک (think tank) ہیں، نئی نئی تحاقیق اور نئی نئی سائنسی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی اصطلاحالات کے ذریعے ہمیں انگشت بہ دنداں رکھتے ہیں۔مختصراً یہ کہ جو چاہے آپکا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ طبقہ بھی بڑا مظلوم ہے۔ انکی عزت، شہرت، دولت سب ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو انہیں یہاں تک لائے ہیں۔اگر یہ وہ سب نہ کریں جو اوپر والوں کا حکم ہے تو آسمان سے زمین پر پٹخ دیے جائیں۔ سکینڈلز، مقدموں وغیرہ میں الجھ کر ہیرو سے زیرو ہو جائیں۔ یہ طبقہ دراصل ان افراد پر مشتمل ہے جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی محنت ، ذہانت ، قسمت اور لوگوں کو متاثر کرنے کی قابلیت کی وجہ سے اوپر بیٹھے لوگوں کا چناو ہوتا ہے۔ چند مجاہد ان میں سے بھی ہر دور میں نکلے ہیں لیکن زہر کا پیالہ پینا پڑا، مجنوں کہلائے اور بستی بدر ہو گئے۔
پھر آتا ہے عام عوام کا طبقہ یعنی میں، شائد آپ بھی بلکہ ہم سب۔ ہمارے خواب ہمارے نہیں اور ہماری زندگی ہماری نہیں۔ہمارے خواب وہ جو اوپر مذکور طبقے نے دکھائے ہیں اور ہماری زندگی ان کے ہاتھ میں جو سب سے اوپر بیٹھے ہیں۔ عرفِ عام میں ہم مڈل کلاس کہلاتے ہیں اور لگ بھگ چھ ارب کی تعداد ہے ہماری۔ فیکٹریوں، کھیت، ہسپتالوں، سکولوں کی رونق ہم اور معیشت کا انجن بھی ہم۔ ہم صارف (consumer) طبقہ ہیں۔ ہم نہ ہوں تو کاروبار بند ہو جائیں، منڈیاں (markets) اجڑ جائیں اور حکومتیں فارغ ہو جائیں۔ لیکن وائےافسوس کہ ہم کمزور ترین طبقہ ہیں اور سب سے زیادہ منقسم بھی۔ اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھتے ہیں اور جیسا سب کر تے ہیں ویسا ہم بھی کرتے ہیں۔ اس طرح شائد ہم انفرادی ذمہ داری سے تو جان چھڑا لیتے ہیں لیکن اپنے گلے میں پٹہ پہن کر رسی کسی اور کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ اوپر بیٹھے لوگوں کی نظروں میں ہمارا رنگ، نسل، مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا، انکے نزدیک ہم سب شودر ہیں، انسان نما حیوان (gentiles) ہیں, ان کے اشاروں پر ناچنے والے حیوان۔ اور یوں یہ کھیل جاری ہے، تاک دھنادھن تاک کا کھیل!

کلونجی ھر مرض کی دواھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نھیں ھے جس کی دوا کلونجی میں نہ ھو سواۓ موت کے"

سائنسی حقیقت:

مشرق وسطی اور مشرق اقصی کے اکثر ممالک میں دو ھزار سال سے زیادہ عرصہ سے کلونجی کا استعمال ایک طبیعی علاج کے طور پر کیا گیا ھے۔ اور 1959ء میں دخاخنی اور اس کے رفقاء نے کلونجیکے تیل سےنیجیللوں کے مجموعہ کو نکالاھے۔ اور کلونجی کےدانون میں 40 ٪ فیصد ثابت تیل اور 1.4 ٪ فیصد اڑنے والا تیل ھوتا ھے۔ اور 15٪ فیصد حفاظتی ایسیڈ، بروٹین، کیلشیم، آئرن سوڈیم، پوٹاسیم پایا جاتا ھے ۔ اور اس میں کام کرنے والے اھم اجزاء یہ ھیں ، ثیموکینون، دائیثیموکینون،ثیموہئیڈروکینون، اور ثیمون ۔ اور فطری مناعت (تحفظ) میں کلونجی کا اھم کردار ھےجس کا انکشاف 1967 ء میں امریکہ میں قاضی اور رفقاء کے ذریعہ کی گئی ریسرچز میں ھوا ھے۔ اس کے بعد مختلف ممالک میں اور مختلف میدانوں میں اس پودے کے متعلق تحقیقات اور ریسرچ کا کام ھوا، قاضی صاحب نے اپنی تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیاھےکہ قوت مناعت میں کلونجی کا بہت بڑا اثر ھوتا ھے، اس طور پر کہ لمفاوی.... خلایا جو کنٹرول کرنے والی خلایا کی مدد کا کام کرتی ھیں۔ اس میں 73٪فیصد اس کا تناسب ھوتا ھے۔ قاضی صاحب کی ریسرچ کی تائید میں جدید تحقیقات کے نتائج بھی سامنے آۓ ھیں۔ جن میں سے کچھـ مندرجہ ذیل ھیں۔

میگزین " المناعة الدوائية"کے اگست 1995ء کے شمارہ میں خارجی انسانی لمفاوی خلایا پر چند مراحل میں کلونجی کےاثرات کے متعلق اشاعت ھوئی ھے۔ جس میں خون کے مختلف سفید خلایا سے متعلق جو حلق کو تر وتازہ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اس میگزین کے ستمبر 2000ء کے شمارہ میں جوھوں میں cytomealovirus کےخلاف کلونجی کے تیل سے احتیاطی علاج کی تاثیر کےمتعلق ایک تحقیق شائع ھوتی ھے۔ اور کلونجی کے تیل کا استعمال وائرس کو ختم کرنے کیلئے تجربہ کیا گیا ۔ اور وائرس لگنے کے ابتدائی مرحلہ میں اس سے حاصل شدہ دفاعی قوت کا اندازہ لگایا گیا۔ اور اس میں حلق آپریشن اور بڑے بلعمی خلایا (آلے کے خلیے) نیز فطری مہلک خلایا کی تحدید کی گئی۔ اور میگزین "السرطان الأوربية "نامى (یوربین کینسر) کےاکتوبر1999ء کے شمارہ میں چوھوں میں معدہ کے کینسر پر ثیموکینون کے مجموعہ کی تاثیر کےمتعلق ایک اشاعت سامنے آئی ۔اسی طرح میگزین "أبحاث مضادات السرطان" کے مئی 1998ء کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کے ورم کوختم کرنے کے متعلق ایک تحقیق شائع ھوئی ھے۔ اسی طرح میگزین " الاثنو الدوائية" کےاپریل2000ء کے شمارہ میں کلونجی کے پیچ دانہ سے ایثانولی کے تیل سے دفاعی اور زھریلے اثرات سے متعلق تحقیق شائع ھوئی ھے۔ (النباتات الطبية) نامی میگزین کے فروری 1995ء کے شمارہ مین کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون کے مجموعہ کے اثرات پر تجربہ شائع کیا گیا ، اسی طرح سے کلونجی کے متعلق مختلف تحقیقات سامنے آتی ھیں۔

سبب اعجاز:

ارشاد نبوی ھے، کہ کلونجی ھر مرض کی دوا ھے، اور کلمۂ شفاء تمام احادیث میں نکرہ استعمال ھوا ھے، سیاق وسباق کے اعتبار سے مثبت اور نکرہ عامہ ھے۔

نتیجة اس لئے یہ کہنا زیادہ بھترھےکہ کلونجی میں ھر مرض سے شفایابی کا کچھـ نہ کچھـ تناسب موجود ھے اور یہ بھی ثابت ھو چکا ھے، کہ دفاعی نظام ھی ھرمرض کو ختم کرنے کا واحد نظام اور ھتھیار ھے، چونکہ دفاعی قوت خواہ وہ فطری ھو یا حاصل شدہ ھو اس کے اندر اسکی طاقت وصلاحیت ھوتی ھے کہ وہ ایسےجراثیم کو جسم کے اندر پیدا کرے جو امراض کے جراثیم کو بآسانی ختم کردیں۔اور ان کے لئے مہلک ھتیار ثابت ھوں ۔

اور تطبیقی تحقیقات سے یہ بات ثابت ھو چکی ھے کہ کلونجی دفاعی قوت کو ھمہ وقت چست رکھتی ھے۔اور مددگار خلیے ، کنٹرول کرنے والے خلیے اور فطری مہلک خلیے یہ سب بالخصوص لمفاوی خلیے ھیں ان سب کا تناسب قاضی صاحب کی تحقیقات میں 75٪ فیصد ھے۔ اور سائنسی میگزین میں شائع شدہ تحقیقات سے بھی اسکی تائید ھوتی ھے۔ جس میں مددگار لمفاوی خلیے اور حلق کے خلیوں کے حالات میں بہتری آئی۔ اور انتروائرون اور انترلوکین 3.1 کے مجموعہ میں اضافہ ھوا، اور دفاعی خلیوں میں بھی بہتری آتی، دفاعی نظام کی یہ بہتری بعض وائرس اور کینسر کے خلیوں پر کلونجی کے تیل سے ختم کردینے والی تاثیرپر اثر انداز ھوئی۔ اسی مرح بلہارسیا کے کیٹرے لگ جانے کی بیماری میں بھی مؤثر ھے، اور کافی کمی آئی ھے۔ اس لئے یہ کہنا کہ کلونجی میں ھر مرض کی دوا ھے کیونکہ یہ دفاعی نظام کو درست رکھتی ھے،اور تقویت دیتی ھے۔ اور اسی نظام میں ھر مرض کا علاج اور شفاء ھے۔ چونکہ یہ نظام ھر مرض کے اسباب کا ازالہ کرتا ھے۔ اور تمام امراض کا کلیاً جزئیاً علاج کرتا ھے۔

اس طرح سے ان احادیث کریمہ سے ایک سائنسی حقیقت کا انکشاف ھوا ھے، جو آج سے چودہ سو سال قبل جس کا کوئی انسان تصور نھیں کر سکتا تھا ، چہ جائی کہ اس کے متعلق گفتگو کرے سواۓ اس نبی کے جو رب ذو الجلال کی جانب سے مبعوث ھے۔ ارشاد ربانی ھے ،"وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی" (سورة نجم آیت 3-4)

اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی جانب سے کوئی بات نھیں کہتے بلکہ وھی کہتے ھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی جاتی ھے۔




قرآن اور سنت ميں علمى اعجاز كى بين الاقوامى تنظيم

02 April 2007

جنگ کی بلاگ سروس کا اجرا

اراکین محفل!

السلام علیکم
روزنامہ جنگ نے حال ہی میں اردو بلاگ سروس شروع کی ہے
حکیم خالد کا بلاگ پڑھیں۔

تبصرہ کریں۔

یا اپنا بلاگ تحریر کریں

براڈ بینڈ بینڈ وڈتھ ریٹ میں کمی

طویل انتظار کے بعد بالآخر پی ٹی اے نے براڈ بینڈ کے لیے بینڈ وڈتھ کے ریٹ میں کمی کردی ہے۔ چند اہم نکات کا خلاصہ پیش کررہا ہوں

پہلی نکتہ صرف پی ٹی اے کی حمد ہے اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اگلے نکتہ پر چلتے ہیں

دوسرا نکتہ پی ٹی اے کے اختیارات اور فرائض پر مشتمل ہے جس پر زیادہ تردد کی ضرورت نہیں

تیسرا نکتہ اہم ہے اور حکومتِ پاکستان کی پہلی براڈ بینڈ پالیسی دسبر ٢٠٠٤ کے چند نکات پر مشتمل ہے
قابل خرید ، ہمیشہ میسر اور تیز رفتار براڈ بینڈ انٹرنیٹ پورے پاکستان میں پھیلانا ( ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا اس کے لیے )
نئے آنی والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور قائم شدہ کمپنیوں کو ترقی میں مدد دینا
پرائیوٹ سیکٹر کی مقامی مواد اور براڈ بینڈ سروس مہیا کرنے کے لیے حوسلہ افزائی

چوتھا نکتہ سب سے اہم ہے مگر ٹارگٹ اتنا کم رکھا ہے کہ قابل شرم ہے
پالیسی ایک قابل عمل نقشہ پیش کرتی ہے جس کی مدد سے ٥ لاکھ صارفین (صرف ) کا ہدف اگلے پانچ سال میں حاصل کیا جائے گا ۔ پالیسی پاکستان میں ہوسٹنگ اور انٹر نیشنل آئی پی بینڈ وڈتھ میں کٹوتی کی سفارشات بھی پیش کرتی ہے ، اس سے براڈ بینڈ کی نشو و نما میں مدد ملے گی۔

پانچواں نکتہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن رولز ٢٠٠٠ کے سترہواں رول بتاتی ہے ۔
چھٹا نکتہ بھی ایک اور رول کے بارے میں ہے اور بورنگ ہے

پھر مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور بطور خاص یہ نکتہ قابل غور ہے
پی ٹی سی ایل کے زیادہ ریٹس کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے سے سرمایہ کار گھبرا رہے ہیں ۔ چند قابل ذکر نکات

١۔ بینڈ وڈتھ ٹیرف کو سختی سے کنٹرول نہیں کیا جاتا اور اتھارٹی کو کنٹرول کرنا چاہیے
٢۔ پی ٹی سی ایل کے ٹیرف کافی زیادہ ہیں باقی ممالک کے مقابلے میں مثلا ٣٩٥٠ جس کیپیسٹی کے لیے پی ٹی سی ایل دے رہی ہے بھارت میں وہ ٢٤٦٢ میں میسر ہے۔



بہت بورنگ ہے اور جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریشانیوں کا علاج

بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
پریشانیوں کا علاج

یہ رب تعالٰی کا بڑا احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کو اپنے ننانوے نام عطا کئے ۔
الہامی الفاظ اور اسماء الہٰی میں اتنی طاقت ہے کہ ان کے ورد سے بیماریاں اور پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں ۔
یورپ کے مشہور پادری لیڈ بیڑ اپنی کتاب The Master and the Path میں لکھا ہے ۔
Each word as it is uttered makes a little from in etheric matter. the word "hate" for instance produce a horrible form. So much that having seen its shape I never use the word.
ترجمہ : ہر لفظ ایتھر میں ایک خاص شکل اختیار کرلیتا ہے ۔
مثلا لفظ نفرت اس قدر بھیانک صورت میں بدل جاتا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یہ صورت دیکھ لی اور اس کے بعد مجھے یہ لفظ استعمال کرنے کی کبھی جرات نہ ہوئی ۔
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ “اللہ اللہ کرنے سے کیا اثر ہوتا ہے ؟یہ لفظ ہی تو ہے ۔آپ جب کسی دوسرے کو گالی دیتے ہیں تو وہ دوسرا آپ کو مارنے کیوں دوڑتا ہے ؟
آپ نے چند الفاظ ہی تو کہے ہیں ۔ایک جرنل جب حب الوطنی سے سرشاد ہوکر فوجیوں کے سامنے تقریر کرتا ہے وہ سب کے سب جانیں قربان کر دیتے ہیں ان کو کیا ہوا‌؟
اس نے چند الفاظ ہی تو کہے ہیں ۔آپ کوکسی لڑکی نے I Love You کہا آپ کی سوچ بدل گئی ۔ رات دن بدل گئے ۔ موسم بدل گیا ۔ چین لٹ گیا ۔ نیند لٹ گئی دل کی دھڑکنیں بے تر تیب ہوگئیں ۔ خیالات بدل گئے یہ آپ کو کیا ہوگیا ؟
اس لڑکی نے چند الفاظ ہی تو کہے ہیں ۔ آپ نے بہت اچھا کام کیا آپ کے استاد نے صرف کہا شاباش آپ خوشی سے نہال ہوگئے ۔ کیوں ہوئے ؟
اس نے ایک لفظ ہی تو کہا ہے آپ کو ماننا پڑے گا کہ الفاظ تاثیر رکھتے ہیں ۔

اللہ پر توکل کیوں؟

اللہ پر توکل کیوں؟


اللہ پر توکل ایمان کی روح اور توحید کی بنیاد ہے ، اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ پر چھوڑنے کا نام توکل ہے،
بعض حضرات ہاتھ پر ہاتھ دھرے اسباب اختیار کئے بغیر اللہ پر توکل کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں، اس قسم کے توکل کا شریعت نے حکم نہیں دیا ہے، قرآن میں ایسی تعلیم ہرگز نہیں ہے، اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسی کوئی تعلیم دی ہے۔ اس بات پر قرآنی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ عظام اور سلف صالحین امت کے واقعات شاہد عدل ہیں۔
ہم پہلے قرآن کریم سے توکل کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہیں، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
((ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ)) (الطلاق: 3)
"جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا"۔

نیز اللہ تعالی نے فرمایا:
((ان کنتم آمنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین)) (یونس: 84)
"اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم مسلمان ہو"۔
نیز ارشاد الہی ہے:
((وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین)) (المائدہ: 23)
"تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے"۔

نیز ارشاد باری تعالی ہے:
((وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون)) (التوبہ: 51)
"مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے"۔

ان آیات پاک میں اللہ تعالی نے مومنوں کو اللہ تعالی کی ذات پر توکل کا حکم اور اس کی انتہائی ترغیب دی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں اور مختلف ڈھنگ سے اللہ تعالی پر توکل وبھروسہ کی ترغیب دی ہے، چند احادیث پاک ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:
1۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
((یدخل الجنۃ من امتی سبعون الفا بغیر حساب قالوا من ہم یا رسول اللہ؟ قال ہم : الذین لا یسترقون، ولا یتطیرون، ولا یکتوون، وعلی ربہم یتوکلون)) (مسلم: 321)
"میری امت کے ستر ہزار آدمی بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدفالی نہیں لیتے، آگ سے نہیں دغواتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں""۔

2- امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا:
((لو انکم کنتم توکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقتم کما یرزق الطیر، تغدو خماصا و تروح بطانا)) (ترمذی: 2266)
"اگر تم لوگ اللہ تعالی پر ایسا توکل کرو جیسا کہ اس کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے، جیسے ایک پرندہ کو ر‌زق ملتا ہے، صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتا ہے"۔

اس حدیث کی وضاحت میں علامہ عبد الرحمن مبارکپوری تحفۃ الاحوذی میں علامہ مناوی کا قول نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

" کسب ومحنت سے روزی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالی کے رزق عطا کرنے سے ہی روزی ملتی ہے، اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ توکل بیکاری اور محنت چوری کا نام نہیں ہے، بلکہ اس میں سبب اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ پرندوں کو طلب اور محنت کرنے سے روزی دی جاتی ہے۔ اسی بنا پر امام احمد فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ کسب اور جدوجہد ترک کردیا جائے، بلکہ یہ اس امر پر دلیل ہے کی رزق کی طلب اور اس کے لئے جدوجہد کی جائے"۔

اس بات کی مزید وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت والے واقعہ سے ہوتی ہے کہ آپ اسباب اختیار کرتے ہوئے غار ثور میں چھپ گئے، قریش آپ کی تلاش میں غار کے منہ پر پہنچ گئے ، گھبراکر ابو بکر رضی اللہ نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
((لو ان احدہم نظر تحت قدمیہ لابصرنا، فقال: ما ظنک یا ابا بکر باثنین اللہ ثالثہما)) (بخاری: 3380، مسلم: 4389)
"اگر قریش کا کوئی ایک آدمی بھی اپنا پیر ہٹاکر دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! ان دونوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالی ہے"۔
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کی طرف غزوہ ذات الرقاع سے واپس آرہے تھے کہ ایک جھاڑی والی وادی میں دوپہر کو قیلولہ کے لئے اترے، جس کو جہاں جگہ ملی ادھر ادھر آرام کرنے لگے، آپ بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے سوگئے اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکادی، جب سارے لوگ سوگئے تو بے خبری میں موقع کو غنیمت جان کر ایک مشرک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخت سے تلوار اتار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوگیا ، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی، اس کافر نےبڑے تکبر سے کہا:اے محمد! آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے اطمینان وسکون سے جواب دیا: اللہ۔ یہ سننا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئ، آپ نے اٹھالی اور اس کافر سے فرمایا: اب بتاؤ تم کو مجھ سے کون سکتا ہے؟ اس نے کہا: کوئی نہیں! آپ نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری: 3822) ۔

اللہ پر توکل کا ایک اور ثمرہ دیکھنا ہو تو ہاجرہ علیہا السلام کا درج ذیل واقعہ پڑھئے، قلب کو اطمینان نصیب ہوگا اور ایمان میں تازگی اور بشاشت پیدا ہوگی، واقعہ کچھ اس طرح ہے:
جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے شیر خوار بیٹے اسماعیل اور اس کی ماں ہاجرہ علیہما السلام کو مکہ کی غیر آباد سنسان وادی میں بیت اللہ کے پاس ایک درخت کے نیچے چھوڑ کر اور ایک مشکیزہ پانی اور کچھ دے کر واپس جانے لگے تو بے سہارا ہاجرہ نے اپنے شوہر ابراہیم سے دریافت کیا : اے ابراہیم ! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ جبکہ یہاں کوئی چیز ہے نہ انسان ہے؟ابراہیم علیہ السلام نے مڑکر تک نہیں دیکھا اور چلتے رہے، کئی بار دریافت کرنے پر تیسری دفعہ ہاجرہ نے پوچھا: کیا آپ کو اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں! اللہ نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ یہ سن کر ہاجرہ نےجو اللہ پر توکل وبھروسہ کی بات کہی وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، انہوں نے کہا: "جب یہ بات ہے تو اللہ تعالی ہم ماں بیٹے کو ہلاک وضائع نہیں کرے گا" ۔ (بخاری: 3111) ۔
پھر پانی کا ختم ہوجانا اور ہاجرہ علیہ السلام کا پانی کی تلاش میں صفا ومروہ پہاڑیوں کے مابین سات چکر لگانا اور اللہ تعالی کا ان پر رحم کھاکر جبریل علیہ السلام کو بھیجنا اور ان کا زمین پر پیر مار نا جس سے زمزم کا ابل پڑنا مشہور واقعہ ہے اور
((ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ)) (الطلاق: 3)
"جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا"، کی بہترین مثال، جس کی نظیر کہیں اور کسی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اللہ پر ایسے ہی توکل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العامین۔

30 March 2007

28 March 2007

ڈومین اور 5MB ہوسٹنگ بالکل مفت!

السلام علیکم دوستوں،

میں اپ سب لوگوں کے لیے ایک بہت زبردست خبرلائی ا ہوں۔ ایک ویب سائیٹ ہے www.urdu.st کے نام سے جو اپنے ڈومین اور ساتھ 5MB ہوسٹنگ بالکل مفت دے رہی ہے۔ اپ سب لوگ بھی اس سے اپنے ڈومین رجسٹر کروا کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

Link: http://www.urdu.st/register

27 March 2007

ان پیج سے یونی کوڈ میں تبدیل کرنا

ان پیج سے یونی کوڈ میں تبدیل کرنا


تحریر ؛ پردیسی

کچھ عرصہ پیشترمیں یہ سوچا کرتا تھا کہ کوئی ایسا سوفٹ وئیر ہونا چاہئے جو کہ ان پیج میں لکھے ہوئے مواد کو یونی کوڈ میں تبدیل کر دے تاکہ امیج وغیرہ بنانے کے جھنجٹ سے تو نجات حاصل ہو۔بہت دفعہ دوستوں سے اس کا ذکر بھی کیا مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔ایک دفعہ ایک صاحب نے قرن والوں کی ویب سائٹ بارے بتایا مگر وہ ہمیشہ میری دسترس سے باہر رہی۔ آخر کار چند ماہ پہلے میرے ایک محترم دوست نے مجھے اس سوفٹ وئیر سے متعارف کروایا۔ایک آدھ دفعہ استمال کیا مگر اس کا نتیجہ مجھے کچھ اچھا نہیں لگا۔کچھ دن پہلے اردو کے پہلے مکمل یونی کوڈ فورم اردو ویب ڈاٹ کوم میں محترم نبیل نقوی نے ایک تحریر لگائی جس میں ایسے ہی کسی سوفٹ وئیر کے بارے پوچھا گیا۔وہاں بھی اسی سوفٹ وئیر کا ذکر چلا،تو پھر میں نے سنجیدگی سے اس سوفٹ وئیر کو جانچا اور اس کو استمال کیا۔آپ یقین جانئے کہ جتنا چھوٹا یہ سوفٹ وئیر ہے اس سے بڑھ کر اس کے کمالات ہیں۔آپ کو اپنا مواد ان پیج سے یونی کوڈ میں لانا ہو یا یونی کوڈ کا مواد ان پیج میں لانا ہو ،اس کا نتیجہ پچانوے فیصد ہے۔مسلئہ صرف اس کو سہی انداز سے استمال کرنے کا ہے۔
میں اس سوفٹ وئیر ایجاد کرنے والے اردو کمپیوٹنگ اور امانت علی گوہر صاحب کا بے حد شکر گذار ہوں جو کہ انہوں نے اردو کی خدمت کے لئے اتنی عظیم ایجاد کی۔
اس سے پہلے بھی فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ والوں نے یونی کوڈ سالوشن پر ایک اہم مضمون لکھا تھا جس میں اس کو استمال کرنے بارے،خوبیوں اور خامیوں کی بڑی جامع انداز میں راہنمائی کی گئی تھی۔اپنی تحریر کے آخر میں اس مضمون کا حوالہ بھی آپ کے سامنے رکھا جائے گا۔

یونی کوڈ سالوشن کیا ہے؟

یہ ایک ایسا چھوٹا اور مکمل سوفٹ ویئر ہے جو ان پیج کی تحریر کو یونی کوڈ میں اور یونی کوڈ کی تحریر کو ان پیج میں تبدیل کر دیتا ہے۔گو کہ ابھی تک اس میں کچھ خامیاں موجود ہیں مگر اس کا نتیجہ پھر بھی کمال کا ہے۔ابھی کچھ عرصہ پیشتر امانت علی گوہر صاحب نے اس کا نیا ورژن متعارف کروایا ہے جس کو اور بہتر کیا گیا ہے اور اسے آپ ونڈو ٨٩ میں بھی استمال کر سکتے ہیں۔اس ورژن میں آپ کو کوڈنگ لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی آپ سیدھا سیدھا اپنی تحریر اسی میں ردوبدل کر سکتے ہیں۔

ونڈو ایکس پی کے لئے یونی کوڈ سالوشن یہاں سے ڈائون لوڈ کریں (پرانا ورژن)

یونی کوڈ سالوشن یہاں سے ڈائون لوڈ کریں

ونڈو ایکس پی اور ٨٩ کے لئے یونی کوڈ سالوشن یہاں سے ڈائون لوڈ کریں (نیا ورژن)

ونڈو ایکس پی اور ٨٩ کے لئے یونی کوڈ سالوشن یہاں سے ڈائون لوڈ کریں

اور اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو ایشیا ٹائپ فونٹ موجود نہیں ہے تو نیچے دئیے گیے ربط سے اسے بھی ڈائون لوڈ کر کے اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرلیں۔

اردو ایشیا ٹائپ فونٹ

22 March 2007

قیامت کیا ہے؟

جو اس بازار میں ہو تو کثافت اس کو کہتے ہیں
ہو الحمرا میں مجرا تو ثقافت اس کو کہتے ہیں
نہ ڈالے ووٹ کوئی بھی مگر وہ جیت جائیں گے
ذرا بتلاؤ لوگوں کو کرامت اس کو کہتے ہیں
حراست میں رہے جو نیب کی وہ اب منسٹر ہیں
کرپشن اس کو کہتے تھے وزارت اس کو کہتے ہیں
جو ایک عہدے پر فائز تھے وہ سب عہدوں پر قابض ہیں
یہ ان کے گھر کی لونڈی ہے شرافت اس کو کہتے ہیں
مخالف جیت جائے تو نتیجہ روک لینا ہے
تم ہی انصاف سے کہہ دو دیانت اس کو کہتے ہیں
کریں گے پار جب چاہیں جہاں چاہیں جسے چاہیں
یہ جانوں کے محافظ ہیں حفاظت اس کو کہتے ہیں
کریں تکفیر مسجد میں مسلماں کی سر منبر
بزعم خویش واعظ جی خطابت اس کو کہتے ہیں
بقدر جرم منصف نے یہاں انصاف بیچا ہے
یہ اینٹوں کی عمارت ہے عدالت اس کو کہتے ہیں
جہاں حواّ کی بیٹی زاویئے جسموں کے دکھلائے
قیامت کون سی ہوگی قیامت اس کو کہتے ہیں

ڈاکٹر محمود عالم

~*~عید میلاد النبی مبارک~*~


جدت سے لیس فائر فاکس

ویب 2.0 ایج کے لیئے فائر فاکس کا نیا براؤزر متعارف کروایا گیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور ٹولز سے لیس ہے۔
اس نئے براؤزر کی نئی بات یہ ہے کہ اس میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جس کے باعث یہ دھوکہ بازی یا فراڈ روکنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ سپیلنگ بھی درست کرسکتا ہے اور اس ہی میں سرچ انجن مینیجر بھی موجود ہے۔
مائیکروسافٹ کا جانب سے نئے انٹرنیٹ ایکسپلورر 7 کے ایک ہی ہفتہ بعد فائر فاکس نے یہ نیا براؤزر متعارف کروایا ہے۔
فائرفاکس سے متعلقہ کمپنی موزیلا کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئے براؤزر کی ریلیز کے لیئے دنیا بھر سے ایک ملین افراد نے مدد کی ہے۔
فائر فاکس کا پہلا ورژن نومبر 2004 میں سامنے آیا تھا جس کے بعد سے یہ مسلسل مائیکروسافٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر سے مقابلے میں ہے بلکہ کافی حد تک اس کی مقبولیت پر اثر انداز ہوا ہے۔
فی الوقت اس کا مارکیٹ شیئر 12 سے 15 فیصد تک ہے۔
موزیلا کے نائب صدر مائیک شروفر کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں اس کی مقبولیت اس سے بھی زیادہ ہے۔
نیا براؤزر کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو ممکنہ وائرس میل کے بارے میں متنبہ کرتا ہے تاکہ فراڈ سے بچا جاسکے۔
یہ براؤزر لوگوں کو وہ ونڈوز دوبارہ سے کھولنے کا موقع دیتا ہے جو انہوں نے غلطی سے بند کردی ہوں یا پھر کمپیوٹر کریش ہونے کے باعث خود ہی بند ہوگئی ہوں۔

خبر کی تفصیل

ویب ڈویلپرز کےلئے تحفہ



چند روز قبل فائرفاکس کی ایک ایکسٹینشن فائر بگ (Firebug) ریلیز ہوئی ہے جو میرے ڈیویلپمنٹ ٹولز کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ میری دانست میں فائربگ ویب ڈویویلپرز کے لیے ایک بہترین ٹول ہے۔ اب میں سٹائل شیٹس ایڈجسٹ‌کرنے کا کام فائبگ کے ذریعے ہی کرتا ہوں کیونکہ فائربگ کے ذریعے آپ کسی بھی ویب پیج کی ایچ ٹی ایم ایل سٹرکچر (ڈاکومنٹ آبجیکٹ ماڈل) کی نہ صرف پڑتال کر سکتے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے ہر ایلیمنٹ پر لاگو ہونے والے سٹائل کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح آپ کسی بھی ویب پیج کی سٹائل شیٹ‌ کو لائیو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں جاوا سکرپٹ ڈی بگنگ کی سہولت بھی میسر ہے۔ فائربگ کے متعلق مزید تفصیلات جاننے اور اسے ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ذیل کے روابط سےرجوع کریں۔


Firebug, web development evolved
Firebug documentation

امیج شیک پر ۱سیکنڈ میں اپلوڈنگ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ imageshack.us والوں کی طرف سے اُن کی سائٹ پر تصاویر اپلوڈ کرنے کا مفت ٹول ہے جس سے آپ آسانی سے اُن کے سرور پر بغیر اُن کی سائٹ پر جائے تصاویر اپلوڈ کرسکتے ہیں اور فورم میں پیسٹ کرنے کے لئے بی بی کوڈ سمیت ربط تیار حاصل کرسکتے ہیں جس سے تصاویر اپلوڈ کرنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے Very Happy

ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

لفظ بدلی کریں

بسم اللہ الرحمن الرحيم

يہ چھوٹا سا پروگرام کہ جس کا نام ہے TexRep بڑے کام کي چيز ہے اور کافي وقت بھي بچاتا ہے..

يہ کسي بھي قسم کي بند فائل ميں کوئي خاص لفظ تلاش کر کے آپ کے مطلوبہ لفظ سے بدل ديتا ہے اور وہ بھي سيکنڈوں ميں..

مثال کے طور پر ہم نے کسي پي ايچ پي سکرپٹ ميں فونٹ Tahoma سے Urdu Naskh Asiatype ميں بدلنا ہے.. عام حالات ميں ہميں ہر ايک فائل کھول کھول کر ہي يہ کام انجام دينا ہوگا جس کے لئے يقيناً کافي وقت درکار ہوگا اور خواري الگ.. ليکن TexRep سے يہ کام صرف چند سيکنڈوں ميں کيا جاسکتا ہے.. ہميں اسے صرف مطلوبہ فائل يا فولڈر بتانا ہے.. مطلوبہ فائلوں کا ايکسٹنشن اور مطلوبہ الفاظ.. باقي کام يہ خود انجام دے گا..

استمال ميں انتہائي آسان اور سب سے بڑي بات يہ کہ بالکل مفت..



ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

ڈھیٹ فائلز ڈیلیٹ کریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعض اوقات کوئی فائل حذف کرتے وقت وینڈوز یہ کہتے ہوئے اسے حذف کرنے سے انکار کردیتا ہے کہ "یہ فائل حذف نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ استعمال میں ہے" چلیں کوئی دوسری تیسری فائل ہو تو بندہ یقین بھی کرلیتا ہے اور اس فائل کو حذف کرنا اگلے ریبوٹ تک ملتوی کردیتا ہے لیکن اس وقت خاصا تعجب ہوتا ہے جب وینڈوز یہ بیان کسی فولڈر پر دے کر اسے حذف کرنے سے اکار کردیتا ہے کہ یہ بھی استعمال میں ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا..

بہر حال وجہ کوئی بھی ہو ایسی ہی ڈھیٹ فائلوں کے لئے ہی Unlocker کو ایجاد کیا گیا ہے.. یہ وینڈوز کے رائٹ مینیو میں آن موجود ہوتا ہے اور جب کوئی فائل حذف ہونے سے انکاری ہو تو آپ کو بس اس فائل پر رائٹ ماؤس کلک کرکے اسے سلیکٹ کرنا ہے اور فائل کی مجال کہ وہ حذف ہونے اسے انکار کردے..




لائسنس: فری ویر
حجم: 182 کلوبائٹ صرف
ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

StartUp سے ونڈوز کا سٹارٹ اپ تیز کری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ونڈوز کے سٹارٹ اپ میں سست روی کی ایک وجہ ایسے سوفٹ ویر بھی ہیں جو ونڈوز کے چلتے ہی چلنا شروع کردیتے ہیں جس سے ونڈوز کا سٹارٹ اپ بہت آہستہ ہوجاتا ہے..

StartUp کو استعمال کرتے ہوئے آپ با آسانی ایسے پروگراموں کو خود بخود چلنے سے روک سکتے ہیں اور ونڈوز کا سٹارٹ اپ تیز کرسکتے ہیں.. یہ ایک standalone executable پروگرام ہے یعنی یہ نہ صرف تنِ تنہا ہے بلکہ اسے نصب کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں صرف اتاریے اور چلائیے والا معاملہ ہے..



حجم: 109 کلوبائٹ صرف
ڈاونلوڈ: يہاں سے

واللہ الموفق

طلبا فیل کیوں ہوتے ہیں

طلباء امتحانات میں کیوں فیل ہوتے ہیں ؟

اس میں طالبعلموں کا کوئی قصور نہیں، ہم ایک جائزہ پیش کرتے ہیں :
سال میں 365 دن ہوتے ہیں
1) ہر اتوار کی چھٹی ہوتی ہے اور سال میں 52 اتوار ہوتے ہیں یعنی بقایا دن =313
2) گرمیوں کی چھٹیوں = 90 دن (اتنی سخت گرمی میں بھلا کیسے پڑھا سکتا ہے) بقایا دن =223
3) روزانہ آٹھ گھنٹے سونے کے (سونا تندرستی کیلئے ضروری ہے) یعنی 122 دن ، بقایا دن= 101
4) ایک گھنٹہ روزانہ کھیل کود کیلئے (کھیل بھی صحت کیلئے ضروری ہے) یعنی 15 دن ، بقایا دن=86
5) دو گھنٹے روزانہ کھانے پینے کیلئے (کیونکہ کھانا ہمیشہ خوب چبا چبا کر کھانا چاہیئے) یعنی 30 دن ، بقایا دن = 56
6) ایک گھنٹہ روزانہ بات چیت کا (کیونکہ انسان Social Animalہے ) یعنی 15 دن ، بقایا دن= 41
7) دوسری چھٹیاں (Public Holidays) کم از کم 30 دن ، بقایا دن = 11
Cool کم از کم 5 دن بیماری کے ، بقایا دن = 6
9) پارٹی اور شادی فنگشن وغیرہ کم ازکم 5 دن ، بقایا دن=1
10) اور یہ ایک دن میری سالگرہ کا ہے (اب سالگرہ والے دن بندا پڑھتا اچھا تو نہیں لگے گا )
اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کیسے پاس ہو سکتے ہیں Question

انضمام کرکٹ اور باب وولمر دنیا سے چل بسے

ابھی کچھ گھنٹے پہلے ٹی وی پہ خبر آ رہی تھی کہ پاکستانی کوچ اپنے روم میں بےہوش پائے گئے۔
اب ٹی وی پر خبر آ رہی ہے کہ باب وولمر کا انتقال ہوگیا۔

بہت افسوسناک خبر ہے۔
May Allah Rest His Soul In Peace


مصدقہ اطلاع کے مطابق انضمام نے ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائیر ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ اپنا آخری ایک روزہ میچ بروز بدھ موجودہ ورلڈ کپ میں کھیلیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم ایک اچھے کھلاڑی سے محروم ہو جائے گی۔

خواتین کی انٹرنیٹ مصروفیات


عام طور پر انٹرنیٹ کو جنس ، رنگ و نسل ، مذاہب کی تفریق اور جغرافیائی بندشوں سے بے نیاز دور جدید کا معلومات ، رابطہ ،اظہار راۓ اور تفریح وغیرہ کا عوامی اور سہل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر چیٹ، ای میل، آن لائن فورمز، بلاگز و‏غیرہ جیسے بے تعّصبانہ مواصلاتی ذرائع کی موجودگی، سائبر سپیس کا معاشرے میں رائج سماجی اور تہذیبی امتیازی اقدار سے بالا تر ایک ایسی ورچول دنیا کا تصور پیش کرتی ہیں جہاں جنسی مساوات کی گنجائش روایتی دنیا سے زیادہ ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں انٹرنیٹ سے منسلک فوائد اور سہولتوں سے مرد اور عورتیں یکساں مستفید ہو رہے ہیں یا پھر انٹرنیٹ سے وابستہ جنسی مساوات کا تصور فرضی ہے ؟

اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے میں نے مختلف طبقوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے رجوع کیا اور ان کے انٹرنیٹ کے استعمال کا رجحان جاننے کی کوشش کی۔

حفصہ عادل کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے متعلق ایک ماہانہ جریدے میں صحافیانہ خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ سپورٹس خصوصاً کرکٹ اور فٹبال کا شوق جنون کی حد تک ہے، اس لیے دفتری اوقات میں بھی وقتاً فوقتاً دیگر سپورٹس ویب سائٹس دیکھنا حفصہ کے لیے لازمی ہے۔

ای میل، چیٹ، بلاگ پڑھنے اور گانے ڈاؤن لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی، تفریحی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کو وہ یوں تسلیم کرتی ہیں ’ کوئی بھی فیچر یا آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں اس موضوع کے بارے میں انٹرنیٹ پر چھان بین کرنے کو ترجیح دیتی ہوں ـ اسی طرح پڑھائی کے سلسلے میں پہلے لائبریری جا کر کتابیں چھاننی پڑتی تھیں، لیکن اب انٹرنیٹ پر ہی زیادہ تر تدریسی مواد مل جاتا ہے جس سے کافی آسانی ہوگئی ہے اور وقت کی بھی بچت ہو تی ہے۔

نسرین جلیل
نسرین جلیل اپنی ای میلز بھی دوسروں سے چیک کراتی ہیں

اس نظریہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کراچی کی نائب ناظمہ نسرین جلیل سے ان کے انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ گو وہ کمپیوٹر کو استعمال کرنا تو جانتی ہیں اور اپنے پاس ایک لیپ ٹاپ بھی رکھتی ہیں، تاہم کام اور دیگر مصر وفیات کے وجہ سے انٹرنیٹ پر وقت نہیں گزارتی‘۔

یہاں تک کہ اپنا ای میل ایڈرس ہونے کے باوجود وہ کسی اور سے ای میلز چیک کرواتی ہیں۔

اس کے بر عکس رملہ ذیشان ایک خاتون خانہ ہیں۔ شادی کے بعد کراچی سے جا کر جدہ میں رہائش پذیر ہیں۔ جلد شادی ہو جانے کی وجہ سے رملہ اپنی بی اے کی تعلیم تو مکمل نہیں کر پائیں مگر انٹرنیٹ سے صحت اور غزا کے متعلق معلومات اکٹھی کر نے کی وجہ سے وہ اپنے خاندان میں ’عالم الغذا‘ کی پہچان رکھتی ہیں۔

رملہ کا کہنا تھا ’سعودی عرب میں چونکہ انٹرنیٹ کنکشن کافی مہنگا ہے اس لیے میں روز ایک گھنٹہ سے زیادہ انٹرنیٹ پر وقت نہیں گزار پاتی ہوں اور میری کوشش ہو تی ہے کہ اس ایک گھنٹہ میں زیادہ سے زیادہ ویب پیجز کمپیوٹر پر محفوظ کر لوں اور پھر آف لائن ہو نے کے بعد آرام سےان کا مطالعہ کرتی ہوں۔

صحت، ورزش، کھانے پکانے اور غذا کی ویب سائٹس کے علاوہ میں اردو شاعری اور دینی ویب سائٹس بھی دیکھتی ہوں اور وائس چیٹ کے ذریعے کراچی میں بھائیوں سے بھی رابطہ رہتا ہے۔ مجھے انٹرنیٹ پر خبروں کے علاوہ باقی سب چیزیں پڑھنے کا شوق ہے۔ شادی سے پہلے میں نے کمپیوٹر کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ تب تو کمپیوٹر مانیٹر اور اصل کمپیوٹر کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں تھا پر اب تو یہ حال ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر اکیلا پن لگتا ہے‘۔

کچھ اس ہی قسم کے خیالات فرح محمود کے بھی ہیں جوایک انجنیئر ہیں اور پشاور کی نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز میں تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ فرح کے خیال میں جو تعلیمی یا پیشہ ورانہ کامیابیاں انہوں نے اب تک حاصل کیں ہیں انٹرنیٹ کی غیر موجودگی میں اس مقام تک پہنچنے کے لیے شاید ان کو دگنی جستجو اور وقت درکار ہوتا۔

انٹرنیٹ سے فرح کا تعارف سات سال پہلے ہوا تھا جب وہ کالج میں پڑھ رہی تھیں۔ فرح نے بتایا ’ابتدا میں انٹرنیٹ کی اصل طاقت اور اہمیت سے آشنائی نہ تھی اور میری آن لائن مصر وفیات ای میل اور کمپیوٹر گیمز کے کریکز اور گرُ کی تلاش تک محدود تھیں۔ دفتر میں تو اب میں روزانہ اوسطاً چھ گھنٹہ آن لائن ہو تی ہی ہوں پر گھر پر بھی ایک دو گھنٹہ انٹرنیٹ پر گزرجاتے ہیں۔ فی الحال میری آن لائن سرگرمیاں، ای میل، ٹیکسٹ اور وائس چیٹ سمیت تدریس اور دیگر ریسرچ پیپرز کے حوالے سے مواد تلاش کرنے اور آن لائن ٹیوٹوریلز اور ویبینارز کی شکل میں اتالیقی مواد تک رسائی پر مبنی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں انجینئرنگ اور آئی ٹی کے متعلق چند بین الاقوامی تنظیموں کی ممبر بھی ہوں۔ آن لائن گروپس کی صورت میں ان تنظیموں کے بقیہ ممبران سے رابطہ اور تبادلہ خیال بھی ہو تا ہے اور جب میں اپنے کمپیوٹر پر موجود گانوں اور موسیقی سے اکتا جاتی ہوں تو انٹرنیٹ پر ریڈیو سن لیتی ہوں‘۔

نادیہ حسن
انٹرنیٹ کے ذریعے بیٹے کے لیے بہتر سکول کا انتخاب ماڈل نادیہ حسین کی آجکل ایک اہم مصروفیت ہے

پاکستانی خواتین میں انٹرنیٹ کا شعور اور استعمال کے بارے میں فرح نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں بڑی عمر کی خواتین اور خاتون خانہ عموماً کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استمعال کرنے سے کتراتی ہیں، جس کی وجہ تکنیکی سوجھ بوجھ کی کمی ہو سکتی سے یا پھر وہ شوق کی کمی کے بنا پر گھریلو مصروفیات میں سے وقت نکال نہیں پاتیں ہیں۔ بعض اوقات ان کی انٹرنیٹ کا بنیادی استعمال سکھانے والے کسی شخص تک رسائی بھی نہیں ہوتی۔ مگر جب ان ہی خواتین کو اپنے پیشہ یا کام کی وجہ سے انٹرنیٹ استعمال کرنا پڑ تا تو وہ اپنی ہچکچاہٹ پر قابو پا لیتی ہیں‘۔

نادیہ حسین ایک ماڈل ہونے کے ساتھ ساتھ دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ اپنے بیٹے کے لیے سکول کا انتخاب کس طرح کیا جائے آجکل انٹرنیٹ پر نادیہ کی سب سے اہم سرگرمی ہے۔ بیٹی کی ولادت سے قبل، نام کا انتخاب کرنے کے لیے بھی نادیہ نے سائبر سپیس کا ہی رخ کرنا پسند کیا۔ نادیہ کے خیال میں ’انٹرنیٹ کی وجہ سے ہر قسم کی معلومات تک رسائی نہایت آسان ہوگئی ہے اور ماڈلنگ جیسے پیشے میں آن لائن پورٹ فولیو بین الاقو امی ماڈلنگ کے مواقع یا پیشکش حاصل کرنے میں مدد گار ہوسکتا ہے‘۔

اپنے مقصد کے لیے انٹرنیٹ کا موزوں استعمال کرنے کی ایک اور مثال کراچی میں انگریزی تدریس سے وابستہ صدف ہلائی بھی ہیں۔ ان کے انٹرنیٹ مشاغل میں بلاگنگ، آن لائن سکریبل کھیلنا سے لے کر تدریس اور دیگر رسائل کے لیے فیچر لکھنے کے لیے مواد تلاش کرنا شامل رہے ہیں۔ صدف کے مطابق ’نو سال قبل بطور طالبہ جب میں نے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کیا تھا تب میں اس کے ذریعہ پڑھائی میں معاونت لینے سے گریز کرتی تھی پر اب انٹرنیٹ کی بدولت اپنے ماضی سے اس وقت دوبارہ متعارف ہوئی جب میں نے پرانے دوستوں کے نام انٹرنیٹ پر تلاش کیے اور ان سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئی،۔

نہ صرف یہ بلکہ اپنے نانا کی علالت کے دوران صدف نے اپنی والدہ کو انٹرنیٹ پر ان کی بیماری کے بارے میں معلومات تلاش کرنا بھی سکھایا جس کے بعد بقول صدف ان کی امّی گوگل کی ’سب سے بڑی مداح‘ ہوگئی ہیں۔

یہ تو تھیں کچھ تعلیم یافتہ، شہری خواتین کا انٹرنیٹ کی جانب رجحان اور استعمال کی چند چیدہ مثالیں، مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کا ستر فیصد حصّہ دیہی علاقوں میں موجود ہے وہاں عورتیں تو کیا بیشتر مرد بھی آن لائن دنیا کی ’شہریت‘ لینے کی فکر سے آزاد، انٹرنیٹ کی افادیت اور رعنائیوں سے بے خبر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کشمکش میں لگے ہوۓ ہیں۔

اس صورتحال میں انٹرنیٹ سے آشنا ان چند خوش قسمت لوگوں میں شامل ہونے پر خوش ہونا مقصود ہے یا پھر ملک کی آبادی کے ایک وسیع حصّہ کا دور جدید کی ایک اہم ایجاد یعنی انٹرنیٹ سے محرومی پر ملال کرنا بجا ہے ؟ آپ کا کیا خیال ہے ؟

ایف ٹی پی کا استعمال

السلام علیکم،

کچھ دوستوں نے ایف ٹی پی کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے اور کس طرح اس کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس ٹیوٹوریل کا مقصد ایک ایف ٹی پی کلائنٹ FileZilla کے استعمال کی بنیادی ہدایات کے ذریعے ایف ٹی پی کی وضاحت کرنا ہے۔ اس پوسٹ میں بنیادی طور پر ذیل کے ربط میں موجود انفارمیشن کا اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے:

FileZilla Quick Guide

ایف ٹی پی

ایف ٹی پی (FTP) فائل ٹرانسفر پروٹوکول (File Transfer Protocol) کا مخفف ہے۔ اور (جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے) اس کے ذریعے انٹرنیٹ پر فائلیں ٹرانسفر کی جاتی ہیں۔

کسی ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنے اور وہاں سے فائلوں کا تبادلہ کرنے کے لیے ایک ایف ٹی پی کلائنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فائل زِلا (FileZilla) ایسا ہی ایک فری اور اوپن سورس ایف ٹی پی کلائنٹ ہے۔ ذیل میں فائل زلا کے استعمال کی بنیادی ہدایات موجود ہیں۔

ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنا




کسی ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنے کے لیے فائل زلا کی Quick Connect بار میں ہوسٹ فیلڈ میں اس ایف ٹی پی سرور کا ایڈریس لکھیں۔ اگر یہ سرور کوئی خاص پروٹوکول جیسے کہ سیکیور ایف ٹی پی (SFTP) استعمال کرتا ہے تو اس کے ایڈریس سے پہلے اس پروٹوکول کا نام لکھیں۔ مثال کے طور پر اگر یہ SFTP سرور ہے تو اس کے ایڈریس سے پہلے sftp:// لکھیں۔ اس کے بعد پورٹ فیلڈ میں ایف ٹی پی سرور کی پورٹ کا نمبر لکھیں۔ یہ صرف اسی وقت ضروری ہے اگر ایف ٹی پی سرور کی پورٹ کا نمبر ڈیفالٹ پورٹ نمبر سے مختلف ہو۔ FTP سرور کی ڈیفالٹ پورٹ 21 ہے جبکہ SFTP کی ڈیفالٹ پورٹ 22 ہے۔ اس کے بعد یوزر نیم اور پاسورڈ فیلڈز میں ضروری انفارمیشن شامل کریں اور اس کے بعد Quickconnnect بٹن پر کلک کر دیں۔

ایف ٹی پی سرور پر نیویگیشن




اگر آپ ایف ٹی پی سرور سے کامیابی سے کنکٹ ہو گئے ہیں تو آپ کو دائیں جانب مین ونڈو میں سرور پر موجود فائلز اور فولڈرز کی لسٹ نظر آئے گی۔ اوپر کے ایڈٹ باکس میں آپ کو زیر استعمال فولڈر کا نام بھی نظر آ رہا ہوگا۔ کسی فولڈر میں جانے کے لیے آپ اس کے آئیکون پر ڈبل کلک کریں یا پھر ایڈٹ باکس میں اس کا نام ٹائپ کر کے انٹر کریں۔ جس فولڈ پر آپ کو ".." لکھا نظر آ رہا ہے، اس پر ڈبل کلک کرکے آپ اوپر والے فولڈر میں واپس آ سکتے ہیں۔


لوکل کمپیوٹر کی نیویگیشن





فائل زلا میں آپ اپنے کمپیوٹر کے فائل سسٹم میں اسی طرح گھومتے پھرتے ہیں جیسے کہ سرور کے فائل سسٹم میں نیویگیشن کی جاتی ہے۔ یہاں ایک فرق موجود ہے، وہ یہ کہ لوکل فائل سسٹم کی انفامیشن ایک tree کی شکل میں منظم کی گئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ریموٹ سائٹ (ftp سرور) کی انفارمیشن بھی ٹری کی شکل میں دیکھنا ممکن ہے لیکن اسے بائی ڈیفالٹ خفیہ رکھا گیا ہے۔ ریموٹ سائٹ کے فائل سسٹم کو ٹری کی شکل میں دیکھنے کے لیے بٹن پر کلک کریں۔ اس کے بعد کسی بھی فولڈر میں جانے کے لیے فائل سسٹم ٹری میں اس فولڈر کے نوڈ کو کلک کریں۔

فائلیں منتقل کرنا




آپ کسی بھی فائل پر ڈبل کلک کرکے اسے اپلوڈ یا ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ فائل ٹرانسفر کیو (transfer queue) میں شامل ہو جائے گی اور فائل کی منتقلی ازخود شرع ہو جائے گی۔ کئی فائلوں یا فولڈرز کو ایک ساتھ ٹرانسفر کرنے کے لیے ان سب فائلز اور فولڈز کو منتخب کریں اور اس کے بعد اس سلیکشن پر رائٹ کلک کریں۔ اس کے بعد نمودار ہونے والے کانٹیکسٹ مینو سے اپنی مرضی کے مطابق Upload یا Download منتخب کر لیں۔ آپ فائلوں کو ڈریگ ڈراپ (drag & drop) کے ذریعے بھی ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فائلوں کو منتقلی کی قطار (transfer queue) میں شامل کرنے کے لیے ان پر رائٹ کلک کر کے پاپ اپ مینو سے Add to queue منتخب کریں۔ یہ فائلیں بعد میں منتقل ہوں گی۔ آپ فائلوں کو ڈریگ ڈراپ کے ذریعے بھی اس قطار (queue) میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ٹول بار پر بٹن کلک کرنے سے فائل ٹرانسفر شروع ہو جائے گی۔

امید کرتا ہوں کہ اس ٹیوٹوریل سے دوستوں کو ایف ٹی پی کے بارے میں بنیادی معلومات مل جائیں گی۔
والسلام

مجھ سے دوستی کروگی؟



ہم خیال لوگوں سے رابطہ رکھنا یا آپس میں تبادلہ خیال کرنا انسان کی فطرت میں ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دن بدن انٹرنیٹ پر سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس میں اضافہ نظر آتا ہے۔ ان ویب سائٹس پر ممبران آن لائن پروفائل کے ذریعے اپنا تحریری تعارف، پسند یا نہ پسند، ترجیحات اور تصویریں آویزاں کر تے ہیں۔

عموماً ان ویب سائٹس پر دوسرے ممبران کو ذاتی پیغامات ارسال کرنے، مختلف کمیونٹیز اور فورمز کا قیا‏‏م اور ان میں شمولیت، بلاگز لکھنے اوردوسرے ممبران کو اپنے ہم شناس یا آن لائن دوستوں کے دائرے میں شامل کرنے کی سہولت ہوتی ہے ـ

یوں تو انٹرنیٹ پر ای میل، چیٹ اور آن لائن فورمز بھی رابطہ کا مؤثر ذریعہ ہیں تاہم روز مّرہ زندگی کے تعلقات کو انٹرنیٹ پر منتقل کر نے کے غرض سے انیس سو چھیانوے میں قائم ہو نے والی ویب سائٹ ’سکس ڈگریز ڈاٹ کام‘ پہلی آن لائن سوشل نیٹ ور کنگ ویب سائٹ قرار پائی۔

یہ ویب سائٹ تو سن دو ہزار ایک میں بند ہوگئی مگر وراثت میں صارفین کو انٹرنیٹ پر تعلقات اور روابط قائم کرنے کے ایک نۓ دور سے متعارف کراگئی۔ تب سے لے کر اب تک انٹرنیٹ پر سینکڑوں سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس نمودار ہو چکی ہیں جن میں اورکٹ ، مائی سپیس، زورپیا، لنکڈان وغیرہ جیسی معروف سائٹس شامل ہیں۔

سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہے جتنا کہ انسانی سرگرمیوں کا۔ چاہے آپ دنیا بھر سے پالتو جانور رکھنے کے شوقین لوگوں سے یا پھر اپنے ہم پیشہ افراد سےمیل جول کے خواہش مند ہوں یا پھر انٹرنیٹ پر محبت کی تلاش کر رہے ہوں، ان سب کے لیے مخصوص سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس موجود ہیں۔

انٹرنیٹ پر جہاں سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس کی تعداد اور مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین بھی اس رجحان سے غیر آشنا نہیں ہیں۔

کیا اس قسم کی ویب سائٹس کا مقصد صرف انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی کرنا ہی ہو تا ہے ؟

سوال یہ ہے کہ اس قسم کی ویب سائٹس پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی آن لائن سرگرمیوں میں کیا اہمیت رکھتی ہیں؟

بائیس سالہ طیبہ اسلام آباد میں سافٹ وئیر انجینئرنگ کی طالبہ ہیں اور روزانہ ایک گھنٹہ انٹرنیٹ پر گزارتی ہیں۔ طیبہ کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ براؤزر کھولنے کے بعد سب سے پہلے اورکٹ کی ویب سائٹ کھولتی ہیں۔ انہوں نے بتایا ’اس ویب سائٹ پر دوستوں اور رشتہ داروں پر مشتمل میرے ہم شناسوں کے دائرہ میں ایک سو دو افراد ہیں۔ میں تین سال سے اورکٹ کی ممبر ہوں اور روزانہ تیس سے چالیس منٹ اس ویب سائٹ پر سکریپس کی صورت میں دوستوں کے پیغامات پڑھنے اور ان کا جواب دینے میں گزارتی ہوں۔ یوں صرف ایک ہی ویب سائٹ پر ہی تمام دوستوں اور ‏‏عزیزوں کی خیریت معلوم کرلیتی ہوں۔‘

دوسری جانب اٹھارہ سالہ علی جواد لاہور میں اے لیول کے طالب علم ہیں اور وہ تین سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس یعنی ’اورکٹ‘، ’مائی سپیس‘ اور ’اپنا دیسی‘ کے ممبر ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس میں سے علی کو مائی سپیس زیادہ پسند ہے ۔ علی کے خیال میں ’مائی سپیس‘ پر ’اورکٹ‘ کی طرح اپنے دوستوں کا دائرہ اور وصول کردہ پیغامات کی تعداد بڑھانے کی اندھی دوڑ کی بجائے لوگوں سے رابطہ کرنے اور نۓ دوست بنانے کی زیادہ سہولت ہےـ مائی سپیس پر روزانہ آدھا گھنٹہ پیغامات کا جواب دینے کے بعد وہ اس ویب سائٹ کی کمیونیٹیز پر وقت گزار کر ریلکس کرنا پسند کر تے ہیں لیکن انٹرنیٹ پر اپنا رفقاء کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے ؟

علی جواد کے مطابق ’ویسے تو میرے دوستوں کا دائرہ کافی وسیع ہے مگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر دنیا بھر سے لوگ موجود ہیں اس طرح بیرون ملک مقیم ہم خیال لوگوں سے دوستی کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔‘

کیا اس قسم کی ویب سائٹس کا مقصد صرف انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی کرنا ہی ہو تا ہے ؟



فہد صدیقی ایک نجی ادارے میں کمپیوٹر نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ دفتری اوقات ان کے کمپیوٹر کے سامنے انٹرنیٹ پر گزرتے ہیں اور دن میں دو تین مرتبہ وہ اورکٹ اور مائی سپیس کی ویب سائٹس پر جاتے ہیں۔ فہد کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر جانے کا مقصد جنس مخالف کی قربت حاصل کرنا ہے۔ فہد کے خیال میں ’بیشتر پاکستانی اسی غرض سے ہی ان ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے میل جول پر مغربی ممالک کی طرح زیادہ آزادی نہیں ہے۔ ویسے بھی دفتری اوقات کی وجہ سےمیرے پاس میل جول اور تفریحی اجتماعات کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا ، اس لیے میں دوستوں کی کمی انٹرنیٹ کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ’ابھی ایک لڑکی سے دوستی ہوئی ہے اور نوبت فون پر بات چیت کرنے تک بھی پہنچ گئی ہے مگر ہم اصل زندگی میں ابھی ملے نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب مارکیٹنگ کے شعبہ سے منسلک میر عباس حسنین ہنزئی کے خیال میں آن لائن سوشل ویب سائٹس کا مقصد اور استعمال صارفین کے عمر اور عملی زندگی کے تجربوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ عباس ’اورکٹ‘ پر سکریپ پیغامات کی صورت میں پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ تو رکھتے ہیں مگران کے لیے اس ویب سائٹ کا سب سے جاذب پہلو اس کی کمیونیٹیز ہیں۔

عباس کے مطابق ذکر چاہے نئے برقی آلات کا ہو یا پھر مارکٹنگ سے متعلق کوئی بات، ان ویب سائٹ کی کمینیٹیوں میں دیگر موضوعات پر بات چیت کرنے والوں کے لیے جغرافیائی سرحدیں کوئی معنی نہیں رکھتیں اور یوں گفتگو اور سوچ کا دائرہ بھی وسیع ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اورکٹ پر برازیل، امریکہ اور بھارت کے بعد پاکستانی ممبران کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔

صحافت کے شعبے سے وابستہ رابیل قدیر بیگ کو اورکٹ استعمال کرتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں اوران کے لیے اب اس ویب سائٹ کے ذریعہ دوستوں اور جاننے والوں کو پیغامات بھیجنا ای میل، ایس ایم ایس یا فون کرنے پر ترجیح لے گیا ہے۔

اس ویب سا‏ئٹ پر اپنے مشاہدہ کا حوالہ دیتے ہوۓ رابیل کہتی ہیں کہ سوشل ویب سائٹس پر پاکستانیوں کے رویہ کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

ایک تو وہ لوگ ہیں جو ان ویب سائٹس کو صرف لڑکیوں یا خواتین ممبران سے دوستی کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ـ ایسےلوگوں کے لیے یہ سائٹس محض چھچھورپن اور دوسروں کو تنگ کرنے کا ذریعہ ہیں ـ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو ان ویب سائٹس کو اپنے تعلقات بڑھانے اور نبھانے کے لیے استعمال کر تے ہیں` ـ
اسے انٹرنیٹ کی وسعت کہیے یا پھر زندگی کی برق رفتاری یا پھر شايد ہماری زندگی میں انٹرنیٹ کا عمل دخل اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہم اب ذاتی تعلقات اور ہم خیال لوگوں سے میل ملاپ اور رابطہ کے لیے بھی انٹرنیٹ پر انحصار کرنے پر مائل ہیں۔ تاہم ان مقاصد کو انجام دینے کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ذرائع اور موقعوں کے درست استعمال کے ساتھ احتیاط اور قسمت بھی ضروری ہیں۔

انتخاب حنا فیصل

جی میل کھل گئی

پیارے دوستو، جی میل نے اپنی اوپن رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اگر کسی دوست کو درکار ہو تو اس پتے پر چلے جائیں

www.gmail.com

دیگر خوبیوں کے ساتھ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا موجودہ سائز 8۔2 گیگا بائٹس کی سٹوریج ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے

اسلام و علیکم!

تمام دوستوں اور عزیزوں کو حنا فیصل اپنے پہلے بلاک پر خوش آمدید کہتی ہے اس پر بہت جلد پوسٹنگ شروع ہو جائے گی تمام دوستوں کی رائے کا انتظار رہے گا