03 April 2007

میری گردن اور سنہری پٹہ !!!

حضور ایک بات سے توآپ اتفاق کریں گے کہ آج کے دور میں چند خوشقسمت لوگ ہی اپنے موجودہ حالات، اپنے ماحول اور اپنے طرزِ زندگی سے خوش ہیں، چاہے دیس ہو یا بدیس، گورا ہو یا کالا۔ اکثریت تو بس آنے والے وقت کے بہتر ہونے کی اُمید میں وقت گزار رہی ہے یا پھر ماضی میں رہ کر خوش ہے۔ میرے محلے کے دکاندار کو ہی لیجئے۔ آج کی نوجوان نسل سے نالاں ہے۔ جناب یہ نسل تو بالکل نکمی ہے، کام کاج آتا نہیں، بڑے چھوٹے کی عزت نہیں، سگریٹ پان اور دوسرے نشوں کی رسیا۔ میں نے پوچھابھیا پھر آپ پان سگریٹ کیوں بیچتے ہو؟ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا جناب کیا کریں اس لعنت کے بغیر کاروبار میں مندہ ہوتا ہے، کوئی دکان پرہی نہیں آتا۔ ایک اخبار کے مالک سے پوچھا آپ عورتوں کی تصاویر کیوں چھاپتے ہیں؟ بولے اگر یہ نہ کریں تو رسالہ کون خریدے گا؟ ایک سیاستدان سے پوچھا جناب آپ جھوٹے وعدے کیوں کرتے ہیں؟ بولے بھیا آخر ووٹ بھی تو لینے ہیں اگر یہ وعدے نہ کروں تو آپ ووٹ دینگے بھلا؟ میں بغلیں جھانک کر ہی تو رہ گیا۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم سب مجبور ہیں؟ کیا ہماری زندگیوں کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے؟ یہ سب ویسا کیوں نہیں جیسا ہم چاہتے ہیں؟ کم از کم ہماری اپنی زندگی تو ہماری مرضی کی ہو، ساری دنیا کی تو بات ہی جانے دیجیے۔ پھر مجھے بچپن کی سنی ایک کہانی یاد آئی۔ ایک فاقہ حال جنگلی کتے کا موازنہ ایک ایسے شہری کتے سے کیا گیا تھا جسکی زندگی کے سب پہلو قابلِ رشک تھے، سوائے گردن میں بنے اس نشان کے جسکی وجہ مالک کا پہنایا ہوا سنہری پٹہ تھا۔ کبھی کبھی یہ نشان مجھے اپنی گردن پر بھی دکھائی دیتا ہے!
صاحبو تھوڑی بہت کوشش تو میں نے بھی کی تھی اس پٹے کو اتار پھینکنے کی ۔ پتہ نہیں اسمیں کامیابی کتنی ہوئی لیکن ایک فائدہ ضرور ہوا۔ پہلے دنیا جتنی گنجلک لگتی تھی، اب اس سے تھوڑی کم لگتی ہے۔ تھوڑا سا غور کیا تو اس دنیا میں بسنے والے انسان مجھے تین اقسام میں منقسم نظر آئے۔ جی ہاں بالکل ویسے ہی جیسے قدیم (اور گاہے عصری) ہندو معاشرہ چار قسم کے انسانوں میں تقسیم تھا۔ برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ یقین مانیے یہ تقسیم ہر معاشرے میں، ہر دور میں رہی ہے۔ کچھ لوگ ہمیشہ ہر معاشرے میں خاص رہے ہیں۔ آج بھی ہیں۔ انکی نمایاں خصوصیت تو یہ ہے کہ ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ اور بھی باتیں ہیں جو انہیں خاص بناتی ہیں۔ مثلاً کوئی مذہب نہیں رکھتے، پیسہ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور انسانی نفسیات پر گہرا عبور رکھتے ہیں، دل سے نہیں دماغ سے سوچتے ہیں، شہرت سے دور بھاگتے ہیں اسی لیے کم کم جانے جاتے ہیں۔ انکی زندگی کا ایک اور صرف ایک مقصد ہے۔۔۔ پیسہ، پیسہ اور بہت سارا پیسہ!
اب آتے ہیں دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ انکی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہی ہے، یعنی نمایاں ہونا۔ یہ بھی گرچہ اقلیت ہے لیکن آپکو ہر طرف یہی نظر آئیں گے۔ اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور کوئی بھی ایسی جگہ جہاں یہ نمایاں ہو سکیں۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے، یہ اداکار طبقہ ہے، نہیں نہیں صرف وہ نہیں جو ہالی وڈ، بالی وڈ یا ایسی دیگر جگہوں پر آپکو نظر آتا ہے۔ یہ تو اور بھی کئی مقامات پر پایا جاتا ہے مثلاً حکومتوں میں، سرکاری و غیرسرکاری اداروں میں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں، اقوامِ متحدہ، عالمی بنک اور اسی قبیل کے دیگر اداروں میں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمارے لئے رول ماڈلز (Role Models) ہیں یعنی ایک عام آدمی ان جیسا بننا چاہتا ہے، ان جیسا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، بولنا اور رہنا چاہتا ہے۔ ہمارے طرزِ زندگی (Lifestyles) انکی مرہونِ منت ہیں۔ ہمیں تہذیب یہ لوگ سکھاتے ہیں۔ ہمارا لباس، ہماری زبان، ہمارے رشتے سب پر انکا گہرا اثر ہے۔ یہ لوگ ہمارے دماغ، ہمارے تھنک ٹینک (think tank) ہیں، نئی نئی تحاقیق اور نئی نئی سائنسی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی اصطلاحالات کے ذریعے ہمیں انگشت بہ دنداں رکھتے ہیں۔مختصراً یہ کہ جو چاہے آپکا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ طبقہ بھی بڑا مظلوم ہے۔ انکی عزت، شہرت، دولت سب ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو انہیں یہاں تک لائے ہیں۔اگر یہ وہ سب نہ کریں جو اوپر والوں کا حکم ہے تو آسمان سے زمین پر پٹخ دیے جائیں۔ سکینڈلز، مقدموں وغیرہ میں الجھ کر ہیرو سے زیرو ہو جائیں۔ یہ طبقہ دراصل ان افراد پر مشتمل ہے جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی محنت ، ذہانت ، قسمت اور لوگوں کو متاثر کرنے کی قابلیت کی وجہ سے اوپر بیٹھے لوگوں کا چناو ہوتا ہے۔ چند مجاہد ان میں سے بھی ہر دور میں نکلے ہیں لیکن زہر کا پیالہ پینا پڑا، مجنوں کہلائے اور بستی بدر ہو گئے۔
پھر آتا ہے عام عوام کا طبقہ یعنی میں، شائد آپ بھی بلکہ ہم سب۔ ہمارے خواب ہمارے نہیں اور ہماری زندگی ہماری نہیں۔ہمارے خواب وہ جو اوپر مذکور طبقے نے دکھائے ہیں اور ہماری زندگی ان کے ہاتھ میں جو سب سے اوپر بیٹھے ہیں۔ عرفِ عام میں ہم مڈل کلاس کہلاتے ہیں اور لگ بھگ چھ ارب کی تعداد ہے ہماری۔ فیکٹریوں، کھیت، ہسپتالوں، سکولوں کی رونق ہم اور معیشت کا انجن بھی ہم۔ ہم صارف (consumer) طبقہ ہیں۔ ہم نہ ہوں تو کاروبار بند ہو جائیں، منڈیاں (markets) اجڑ جائیں اور حکومتیں فارغ ہو جائیں۔ لیکن وائےافسوس کہ ہم کمزور ترین طبقہ ہیں اور سب سے زیادہ منقسم بھی۔ اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھتے ہیں اور جیسا سب کر تے ہیں ویسا ہم بھی کرتے ہیں۔ اس طرح شائد ہم انفرادی ذمہ داری سے تو جان چھڑا لیتے ہیں لیکن اپنے گلے میں پٹہ پہن کر رسی کسی اور کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ اوپر بیٹھے لوگوں کی نظروں میں ہمارا رنگ، نسل، مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا، انکے نزدیک ہم سب شودر ہیں، انسان نما حیوان (gentiles) ہیں, ان کے اشاروں پر ناچنے والے حیوان۔ اور یوں یہ کھیل جاری ہے، تاک دھنادھن تاک کا کھیل!

1 comment:

kHURRAM said...

Salam nice bohat achy aap ny bohat achi baaten post ki hai aaj kal bel kul esa hi ho raha hai ye yahan hum apni zindagi bi apni marzi sy nahi guzar sakty hai jo kuch hum karna chahty hai wo nahi kar sakty bas ab aur kea kahon mari gardan main bi to pata hai na