22 March 2007

قیامت کیا ہے؟

جو اس بازار میں ہو تو کثافت اس کو کہتے ہیں
ہو الحمرا میں مجرا تو ثقافت اس کو کہتے ہیں
نہ ڈالے ووٹ کوئی بھی مگر وہ جیت جائیں گے
ذرا بتلاؤ لوگوں کو کرامت اس کو کہتے ہیں
حراست میں رہے جو نیب کی وہ اب منسٹر ہیں
کرپشن اس کو کہتے تھے وزارت اس کو کہتے ہیں
جو ایک عہدے پر فائز تھے وہ سب عہدوں پر قابض ہیں
یہ ان کے گھر کی لونڈی ہے شرافت اس کو کہتے ہیں
مخالف جیت جائے تو نتیجہ روک لینا ہے
تم ہی انصاف سے کہہ دو دیانت اس کو کہتے ہیں
کریں گے پار جب چاہیں جہاں چاہیں جسے چاہیں
یہ جانوں کے محافظ ہیں حفاظت اس کو کہتے ہیں
کریں تکفیر مسجد میں مسلماں کی سر منبر
بزعم خویش واعظ جی خطابت اس کو کہتے ہیں
بقدر جرم منصف نے یہاں انصاف بیچا ہے
یہ اینٹوں کی عمارت ہے عدالت اس کو کہتے ہیں
جہاں حواّ کی بیٹی زاویئے جسموں کے دکھلائے
قیامت کون سی ہوگی قیامت اس کو کہتے ہیں

ڈاکٹر محمود عالم

~*~عید میلاد النبی مبارک~*~


جدت سے لیس فائر فاکس

ویب 2.0 ایج کے لیئے فائر فاکس کا نیا براؤزر متعارف کروایا گیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور ٹولز سے لیس ہے۔
اس نئے براؤزر کی نئی بات یہ ہے کہ اس میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جس کے باعث یہ دھوکہ بازی یا فراڈ روکنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ سپیلنگ بھی درست کرسکتا ہے اور اس ہی میں سرچ انجن مینیجر بھی موجود ہے۔
مائیکروسافٹ کا جانب سے نئے انٹرنیٹ ایکسپلورر 7 کے ایک ہی ہفتہ بعد فائر فاکس نے یہ نیا براؤزر متعارف کروایا ہے۔
فائرفاکس سے متعلقہ کمپنی موزیلا کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئے براؤزر کی ریلیز کے لیئے دنیا بھر سے ایک ملین افراد نے مدد کی ہے۔
فائر فاکس کا پہلا ورژن نومبر 2004 میں سامنے آیا تھا جس کے بعد سے یہ مسلسل مائیکروسافٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر سے مقابلے میں ہے بلکہ کافی حد تک اس کی مقبولیت پر اثر انداز ہوا ہے۔
فی الوقت اس کا مارکیٹ شیئر 12 سے 15 فیصد تک ہے۔
موزیلا کے نائب صدر مائیک شروفر کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں اس کی مقبولیت اس سے بھی زیادہ ہے۔
نیا براؤزر کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو ممکنہ وائرس میل کے بارے میں متنبہ کرتا ہے تاکہ فراڈ سے بچا جاسکے۔
یہ براؤزر لوگوں کو وہ ونڈوز دوبارہ سے کھولنے کا موقع دیتا ہے جو انہوں نے غلطی سے بند کردی ہوں یا پھر کمپیوٹر کریش ہونے کے باعث خود ہی بند ہوگئی ہوں۔

خبر کی تفصیل

ویب ڈویلپرز کےلئے تحفہ



چند روز قبل فائرفاکس کی ایک ایکسٹینشن فائر بگ (Firebug) ریلیز ہوئی ہے جو میرے ڈیویلپمنٹ ٹولز کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ میری دانست میں فائربگ ویب ڈویویلپرز کے لیے ایک بہترین ٹول ہے۔ اب میں سٹائل شیٹس ایڈجسٹ‌کرنے کا کام فائبگ کے ذریعے ہی کرتا ہوں کیونکہ فائربگ کے ذریعے آپ کسی بھی ویب پیج کی ایچ ٹی ایم ایل سٹرکچر (ڈاکومنٹ آبجیکٹ ماڈل) کی نہ صرف پڑتال کر سکتے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے ہر ایلیمنٹ پر لاگو ہونے والے سٹائل کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح آپ کسی بھی ویب پیج کی سٹائل شیٹ‌ کو لائیو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں جاوا سکرپٹ ڈی بگنگ کی سہولت بھی میسر ہے۔ فائربگ کے متعلق مزید تفصیلات جاننے اور اسے ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے ذیل کے روابط سےرجوع کریں۔


Firebug, web development evolved
Firebug documentation

امیج شیک پر ۱سیکنڈ میں اپلوڈنگ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ imageshack.us والوں کی طرف سے اُن کی سائٹ پر تصاویر اپلوڈ کرنے کا مفت ٹول ہے جس سے آپ آسانی سے اُن کے سرور پر بغیر اُن کی سائٹ پر جائے تصاویر اپلوڈ کرسکتے ہیں اور فورم میں پیسٹ کرنے کے لئے بی بی کوڈ سمیت ربط تیار حاصل کرسکتے ہیں جس سے تصاویر اپلوڈ کرنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے Very Happy

ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

لفظ بدلی کریں

بسم اللہ الرحمن الرحيم

يہ چھوٹا سا پروگرام کہ جس کا نام ہے TexRep بڑے کام کي چيز ہے اور کافي وقت بھي بچاتا ہے..

يہ کسي بھي قسم کي بند فائل ميں کوئي خاص لفظ تلاش کر کے آپ کے مطلوبہ لفظ سے بدل ديتا ہے اور وہ بھي سيکنڈوں ميں..

مثال کے طور پر ہم نے کسي پي ايچ پي سکرپٹ ميں فونٹ Tahoma سے Urdu Naskh Asiatype ميں بدلنا ہے.. عام حالات ميں ہميں ہر ايک فائل کھول کھول کر ہي يہ کام انجام دينا ہوگا جس کے لئے يقيناً کافي وقت درکار ہوگا اور خواري الگ.. ليکن TexRep سے يہ کام صرف چند سيکنڈوں ميں کيا جاسکتا ہے.. ہميں اسے صرف مطلوبہ فائل يا فولڈر بتانا ہے.. مطلوبہ فائلوں کا ايکسٹنشن اور مطلوبہ الفاظ.. باقي کام يہ خود انجام دے گا..

استمال ميں انتہائي آسان اور سب سے بڑي بات يہ کہ بالکل مفت..



ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

ڈھیٹ فائلز ڈیلیٹ کریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعض اوقات کوئی فائل حذف کرتے وقت وینڈوز یہ کہتے ہوئے اسے حذف کرنے سے انکار کردیتا ہے کہ "یہ فائل حذف نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ استعمال میں ہے" چلیں کوئی دوسری تیسری فائل ہو تو بندہ یقین بھی کرلیتا ہے اور اس فائل کو حذف کرنا اگلے ریبوٹ تک ملتوی کردیتا ہے لیکن اس وقت خاصا تعجب ہوتا ہے جب وینڈوز یہ بیان کسی فولڈر پر دے کر اسے حذف کرنے سے اکار کردیتا ہے کہ یہ بھی استعمال میں ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا..

بہر حال وجہ کوئی بھی ہو ایسی ہی ڈھیٹ فائلوں کے لئے ہی Unlocker کو ایجاد کیا گیا ہے.. یہ وینڈوز کے رائٹ مینیو میں آن موجود ہوتا ہے اور جب کوئی فائل حذف ہونے سے انکاری ہو تو آپ کو بس اس فائل پر رائٹ ماؤس کلک کرکے اسے سلیکٹ کرنا ہے اور فائل کی مجال کہ وہ حذف ہونے اسے انکار کردے..




لائسنس: فری ویر
حجم: 182 کلوبائٹ صرف
ڈاونلوڈ يہاں سے

واللہ الموفق

StartUp سے ونڈوز کا سٹارٹ اپ تیز کری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ونڈوز کے سٹارٹ اپ میں سست روی کی ایک وجہ ایسے سوفٹ ویر بھی ہیں جو ونڈوز کے چلتے ہی چلنا شروع کردیتے ہیں جس سے ونڈوز کا سٹارٹ اپ بہت آہستہ ہوجاتا ہے..

StartUp کو استعمال کرتے ہوئے آپ با آسانی ایسے پروگراموں کو خود بخود چلنے سے روک سکتے ہیں اور ونڈوز کا سٹارٹ اپ تیز کرسکتے ہیں.. یہ ایک standalone executable پروگرام ہے یعنی یہ نہ صرف تنِ تنہا ہے بلکہ اسے نصب کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں صرف اتاریے اور چلائیے والا معاملہ ہے..



حجم: 109 کلوبائٹ صرف
ڈاونلوڈ: يہاں سے

واللہ الموفق

طلبا فیل کیوں ہوتے ہیں

طلباء امتحانات میں کیوں فیل ہوتے ہیں ؟

اس میں طالبعلموں کا کوئی قصور نہیں، ہم ایک جائزہ پیش کرتے ہیں :
سال میں 365 دن ہوتے ہیں
1) ہر اتوار کی چھٹی ہوتی ہے اور سال میں 52 اتوار ہوتے ہیں یعنی بقایا دن =313
2) گرمیوں کی چھٹیوں = 90 دن (اتنی سخت گرمی میں بھلا کیسے پڑھا سکتا ہے) بقایا دن =223
3) روزانہ آٹھ گھنٹے سونے کے (سونا تندرستی کیلئے ضروری ہے) یعنی 122 دن ، بقایا دن= 101
4) ایک گھنٹہ روزانہ کھیل کود کیلئے (کھیل بھی صحت کیلئے ضروری ہے) یعنی 15 دن ، بقایا دن=86
5) دو گھنٹے روزانہ کھانے پینے کیلئے (کیونکہ کھانا ہمیشہ خوب چبا چبا کر کھانا چاہیئے) یعنی 30 دن ، بقایا دن = 56
6) ایک گھنٹہ روزانہ بات چیت کا (کیونکہ انسان Social Animalہے ) یعنی 15 دن ، بقایا دن= 41
7) دوسری چھٹیاں (Public Holidays) کم از کم 30 دن ، بقایا دن = 11
Cool کم از کم 5 دن بیماری کے ، بقایا دن = 6
9) پارٹی اور شادی فنگشن وغیرہ کم ازکم 5 دن ، بقایا دن=1
10) اور یہ ایک دن میری سالگرہ کا ہے (اب سالگرہ والے دن بندا پڑھتا اچھا تو نہیں لگے گا )
اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کیسے پاس ہو سکتے ہیں Question

انضمام کرکٹ اور باب وولمر دنیا سے چل بسے

ابھی کچھ گھنٹے پہلے ٹی وی پہ خبر آ رہی تھی کہ پاکستانی کوچ اپنے روم میں بےہوش پائے گئے۔
اب ٹی وی پر خبر آ رہی ہے کہ باب وولمر کا انتقال ہوگیا۔

بہت افسوسناک خبر ہے۔
May Allah Rest His Soul In Peace


مصدقہ اطلاع کے مطابق انضمام نے ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائیر ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ اپنا آخری ایک روزہ میچ بروز بدھ موجودہ ورلڈ کپ میں کھیلیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم ایک اچھے کھلاڑی سے محروم ہو جائے گی۔

خواتین کی انٹرنیٹ مصروفیات


عام طور پر انٹرنیٹ کو جنس ، رنگ و نسل ، مذاہب کی تفریق اور جغرافیائی بندشوں سے بے نیاز دور جدید کا معلومات ، رابطہ ،اظہار راۓ اور تفریح وغیرہ کا عوامی اور سہل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر چیٹ، ای میل، آن لائن فورمز، بلاگز و‏غیرہ جیسے بے تعّصبانہ مواصلاتی ذرائع کی موجودگی، سائبر سپیس کا معاشرے میں رائج سماجی اور تہذیبی امتیازی اقدار سے بالا تر ایک ایسی ورچول دنیا کا تصور پیش کرتی ہیں جہاں جنسی مساوات کی گنجائش روایتی دنیا سے زیادہ ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں انٹرنیٹ سے منسلک فوائد اور سہولتوں سے مرد اور عورتیں یکساں مستفید ہو رہے ہیں یا پھر انٹرنیٹ سے وابستہ جنسی مساوات کا تصور فرضی ہے ؟

اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے میں نے مختلف طبقوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے رجوع کیا اور ان کے انٹرنیٹ کے استعمال کا رجحان جاننے کی کوشش کی۔

حفصہ عادل کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے متعلق ایک ماہانہ جریدے میں صحافیانہ خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ سپورٹس خصوصاً کرکٹ اور فٹبال کا شوق جنون کی حد تک ہے، اس لیے دفتری اوقات میں بھی وقتاً فوقتاً دیگر سپورٹس ویب سائٹس دیکھنا حفصہ کے لیے لازمی ہے۔

ای میل، چیٹ، بلاگ پڑھنے اور گانے ڈاؤن لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی، تفریحی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کو وہ یوں تسلیم کرتی ہیں ’ کوئی بھی فیچر یا آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں اس موضوع کے بارے میں انٹرنیٹ پر چھان بین کرنے کو ترجیح دیتی ہوں ـ اسی طرح پڑھائی کے سلسلے میں پہلے لائبریری جا کر کتابیں چھاننی پڑتی تھیں، لیکن اب انٹرنیٹ پر ہی زیادہ تر تدریسی مواد مل جاتا ہے جس سے کافی آسانی ہوگئی ہے اور وقت کی بھی بچت ہو تی ہے۔

نسرین جلیل
نسرین جلیل اپنی ای میلز بھی دوسروں سے چیک کراتی ہیں

اس نظریہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کراچی کی نائب ناظمہ نسرین جلیل سے ان کے انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں جاننا چاہا تو انہوں نے انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ گو وہ کمپیوٹر کو استعمال کرنا تو جانتی ہیں اور اپنے پاس ایک لیپ ٹاپ بھی رکھتی ہیں، تاہم کام اور دیگر مصر وفیات کے وجہ سے انٹرنیٹ پر وقت نہیں گزارتی‘۔

یہاں تک کہ اپنا ای میل ایڈرس ہونے کے باوجود وہ کسی اور سے ای میلز چیک کرواتی ہیں۔

اس کے بر عکس رملہ ذیشان ایک خاتون خانہ ہیں۔ شادی کے بعد کراچی سے جا کر جدہ میں رہائش پذیر ہیں۔ جلد شادی ہو جانے کی وجہ سے رملہ اپنی بی اے کی تعلیم تو مکمل نہیں کر پائیں مگر انٹرنیٹ سے صحت اور غزا کے متعلق معلومات اکٹھی کر نے کی وجہ سے وہ اپنے خاندان میں ’عالم الغذا‘ کی پہچان رکھتی ہیں۔

رملہ کا کہنا تھا ’سعودی عرب میں چونکہ انٹرنیٹ کنکشن کافی مہنگا ہے اس لیے میں روز ایک گھنٹہ سے زیادہ انٹرنیٹ پر وقت نہیں گزار پاتی ہوں اور میری کوشش ہو تی ہے کہ اس ایک گھنٹہ میں زیادہ سے زیادہ ویب پیجز کمپیوٹر پر محفوظ کر لوں اور پھر آف لائن ہو نے کے بعد آرام سےان کا مطالعہ کرتی ہوں۔

صحت، ورزش، کھانے پکانے اور غذا کی ویب سائٹس کے علاوہ میں اردو شاعری اور دینی ویب سائٹس بھی دیکھتی ہوں اور وائس چیٹ کے ذریعے کراچی میں بھائیوں سے بھی رابطہ رہتا ہے۔ مجھے انٹرنیٹ پر خبروں کے علاوہ باقی سب چیزیں پڑھنے کا شوق ہے۔ شادی سے پہلے میں نے کمپیوٹر کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ تب تو کمپیوٹر مانیٹر اور اصل کمپیوٹر کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں تھا پر اب تو یہ حال ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر اکیلا پن لگتا ہے‘۔

کچھ اس ہی قسم کے خیالات فرح محمود کے بھی ہیں جوایک انجنیئر ہیں اور پشاور کی نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز میں تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ فرح کے خیال میں جو تعلیمی یا پیشہ ورانہ کامیابیاں انہوں نے اب تک حاصل کیں ہیں انٹرنیٹ کی غیر موجودگی میں اس مقام تک پہنچنے کے لیے شاید ان کو دگنی جستجو اور وقت درکار ہوتا۔

انٹرنیٹ سے فرح کا تعارف سات سال پہلے ہوا تھا جب وہ کالج میں پڑھ رہی تھیں۔ فرح نے بتایا ’ابتدا میں انٹرنیٹ کی اصل طاقت اور اہمیت سے آشنائی نہ تھی اور میری آن لائن مصر وفیات ای میل اور کمپیوٹر گیمز کے کریکز اور گرُ کی تلاش تک محدود تھیں۔ دفتر میں تو اب میں روزانہ اوسطاً چھ گھنٹہ آن لائن ہو تی ہی ہوں پر گھر پر بھی ایک دو گھنٹہ انٹرنیٹ پر گزرجاتے ہیں۔ فی الحال میری آن لائن سرگرمیاں، ای میل، ٹیکسٹ اور وائس چیٹ سمیت تدریس اور دیگر ریسرچ پیپرز کے حوالے سے مواد تلاش کرنے اور آن لائن ٹیوٹوریلز اور ویبینارز کی شکل میں اتالیقی مواد تک رسائی پر مبنی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں انجینئرنگ اور آئی ٹی کے متعلق چند بین الاقوامی تنظیموں کی ممبر بھی ہوں۔ آن لائن گروپس کی صورت میں ان تنظیموں کے بقیہ ممبران سے رابطہ اور تبادلہ خیال بھی ہو تا ہے اور جب میں اپنے کمپیوٹر پر موجود گانوں اور موسیقی سے اکتا جاتی ہوں تو انٹرنیٹ پر ریڈیو سن لیتی ہوں‘۔

نادیہ حسن
انٹرنیٹ کے ذریعے بیٹے کے لیے بہتر سکول کا انتخاب ماڈل نادیہ حسین کی آجکل ایک اہم مصروفیت ہے

پاکستانی خواتین میں انٹرنیٹ کا شعور اور استعمال کے بارے میں فرح نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں بڑی عمر کی خواتین اور خاتون خانہ عموماً کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استمعال کرنے سے کتراتی ہیں، جس کی وجہ تکنیکی سوجھ بوجھ کی کمی ہو سکتی سے یا پھر وہ شوق کی کمی کے بنا پر گھریلو مصروفیات میں سے وقت نکال نہیں پاتیں ہیں۔ بعض اوقات ان کی انٹرنیٹ کا بنیادی استعمال سکھانے والے کسی شخص تک رسائی بھی نہیں ہوتی۔ مگر جب ان ہی خواتین کو اپنے پیشہ یا کام کی وجہ سے انٹرنیٹ استعمال کرنا پڑ تا تو وہ اپنی ہچکچاہٹ پر قابو پا لیتی ہیں‘۔

نادیہ حسین ایک ماڈل ہونے کے ساتھ ساتھ دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ اپنے بیٹے کے لیے سکول کا انتخاب کس طرح کیا جائے آجکل انٹرنیٹ پر نادیہ کی سب سے اہم سرگرمی ہے۔ بیٹی کی ولادت سے قبل، نام کا انتخاب کرنے کے لیے بھی نادیہ نے سائبر سپیس کا ہی رخ کرنا پسند کیا۔ نادیہ کے خیال میں ’انٹرنیٹ کی وجہ سے ہر قسم کی معلومات تک رسائی نہایت آسان ہوگئی ہے اور ماڈلنگ جیسے پیشے میں آن لائن پورٹ فولیو بین الاقو امی ماڈلنگ کے مواقع یا پیشکش حاصل کرنے میں مدد گار ہوسکتا ہے‘۔

اپنے مقصد کے لیے انٹرنیٹ کا موزوں استعمال کرنے کی ایک اور مثال کراچی میں انگریزی تدریس سے وابستہ صدف ہلائی بھی ہیں۔ ان کے انٹرنیٹ مشاغل میں بلاگنگ، آن لائن سکریبل کھیلنا سے لے کر تدریس اور دیگر رسائل کے لیے فیچر لکھنے کے لیے مواد تلاش کرنا شامل رہے ہیں۔ صدف کے مطابق ’نو سال قبل بطور طالبہ جب میں نے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کیا تھا تب میں اس کے ذریعہ پڑھائی میں معاونت لینے سے گریز کرتی تھی پر اب انٹرنیٹ کی بدولت اپنے ماضی سے اس وقت دوبارہ متعارف ہوئی جب میں نے پرانے دوستوں کے نام انٹرنیٹ پر تلاش کیے اور ان سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئی،۔

نہ صرف یہ بلکہ اپنے نانا کی علالت کے دوران صدف نے اپنی والدہ کو انٹرنیٹ پر ان کی بیماری کے بارے میں معلومات تلاش کرنا بھی سکھایا جس کے بعد بقول صدف ان کی امّی گوگل کی ’سب سے بڑی مداح‘ ہوگئی ہیں۔

یہ تو تھیں کچھ تعلیم یافتہ، شہری خواتین کا انٹرنیٹ کی جانب رجحان اور استعمال کی چند چیدہ مثالیں، مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کا ستر فیصد حصّہ دیہی علاقوں میں موجود ہے وہاں عورتیں تو کیا بیشتر مرد بھی آن لائن دنیا کی ’شہریت‘ لینے کی فکر سے آزاد، انٹرنیٹ کی افادیت اور رعنائیوں سے بے خبر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کشمکش میں لگے ہوۓ ہیں۔

اس صورتحال میں انٹرنیٹ سے آشنا ان چند خوش قسمت لوگوں میں شامل ہونے پر خوش ہونا مقصود ہے یا پھر ملک کی آبادی کے ایک وسیع حصّہ کا دور جدید کی ایک اہم ایجاد یعنی انٹرنیٹ سے محرومی پر ملال کرنا بجا ہے ؟ آپ کا کیا خیال ہے ؟

ایف ٹی پی کا استعمال

السلام علیکم،

کچھ دوستوں نے ایف ٹی پی کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے اور کس طرح اس کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس ٹیوٹوریل کا مقصد ایک ایف ٹی پی کلائنٹ FileZilla کے استعمال کی بنیادی ہدایات کے ذریعے ایف ٹی پی کی وضاحت کرنا ہے۔ اس پوسٹ میں بنیادی طور پر ذیل کے ربط میں موجود انفارمیشن کا اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے:

FileZilla Quick Guide

ایف ٹی پی

ایف ٹی پی (FTP) فائل ٹرانسفر پروٹوکول (File Transfer Protocol) کا مخفف ہے۔ اور (جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے) اس کے ذریعے انٹرنیٹ پر فائلیں ٹرانسفر کی جاتی ہیں۔

کسی ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنے اور وہاں سے فائلوں کا تبادلہ کرنے کے لیے ایک ایف ٹی پی کلائنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ فائل زِلا (FileZilla) ایسا ہی ایک فری اور اوپن سورس ایف ٹی پی کلائنٹ ہے۔ ذیل میں فائل زلا کے استعمال کی بنیادی ہدایات موجود ہیں۔

ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنا




کسی ایف ٹی پی سرور سے رابطہ کرنے کے لیے فائل زلا کی Quick Connect بار میں ہوسٹ فیلڈ میں اس ایف ٹی پی سرور کا ایڈریس لکھیں۔ اگر یہ سرور کوئی خاص پروٹوکول جیسے کہ سیکیور ایف ٹی پی (SFTP) استعمال کرتا ہے تو اس کے ایڈریس سے پہلے اس پروٹوکول کا نام لکھیں۔ مثال کے طور پر اگر یہ SFTP سرور ہے تو اس کے ایڈریس سے پہلے sftp:// لکھیں۔ اس کے بعد پورٹ فیلڈ میں ایف ٹی پی سرور کی پورٹ کا نمبر لکھیں۔ یہ صرف اسی وقت ضروری ہے اگر ایف ٹی پی سرور کی پورٹ کا نمبر ڈیفالٹ پورٹ نمبر سے مختلف ہو۔ FTP سرور کی ڈیفالٹ پورٹ 21 ہے جبکہ SFTP کی ڈیفالٹ پورٹ 22 ہے۔ اس کے بعد یوزر نیم اور پاسورڈ فیلڈز میں ضروری انفارمیشن شامل کریں اور اس کے بعد Quickconnnect بٹن پر کلک کر دیں۔

ایف ٹی پی سرور پر نیویگیشن




اگر آپ ایف ٹی پی سرور سے کامیابی سے کنکٹ ہو گئے ہیں تو آپ کو دائیں جانب مین ونڈو میں سرور پر موجود فائلز اور فولڈرز کی لسٹ نظر آئے گی۔ اوپر کے ایڈٹ باکس میں آپ کو زیر استعمال فولڈر کا نام بھی نظر آ رہا ہوگا۔ کسی فولڈر میں جانے کے لیے آپ اس کے آئیکون پر ڈبل کلک کریں یا پھر ایڈٹ باکس میں اس کا نام ٹائپ کر کے انٹر کریں۔ جس فولڈ پر آپ کو ".." لکھا نظر آ رہا ہے، اس پر ڈبل کلک کرکے آپ اوپر والے فولڈر میں واپس آ سکتے ہیں۔


لوکل کمپیوٹر کی نیویگیشن





فائل زلا میں آپ اپنے کمپیوٹر کے فائل سسٹم میں اسی طرح گھومتے پھرتے ہیں جیسے کہ سرور کے فائل سسٹم میں نیویگیشن کی جاتی ہے۔ یہاں ایک فرق موجود ہے، وہ یہ کہ لوکل فائل سسٹم کی انفامیشن ایک tree کی شکل میں منظم کی گئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ریموٹ سائٹ (ftp سرور) کی انفارمیشن بھی ٹری کی شکل میں دیکھنا ممکن ہے لیکن اسے بائی ڈیفالٹ خفیہ رکھا گیا ہے۔ ریموٹ سائٹ کے فائل سسٹم کو ٹری کی شکل میں دیکھنے کے لیے بٹن پر کلک کریں۔ اس کے بعد کسی بھی فولڈر میں جانے کے لیے فائل سسٹم ٹری میں اس فولڈر کے نوڈ کو کلک کریں۔

فائلیں منتقل کرنا




آپ کسی بھی فائل پر ڈبل کلک کرکے اسے اپلوڈ یا ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ فائل ٹرانسفر کیو (transfer queue) میں شامل ہو جائے گی اور فائل کی منتقلی ازخود شرع ہو جائے گی۔ کئی فائلوں یا فولڈرز کو ایک ساتھ ٹرانسفر کرنے کے لیے ان سب فائلز اور فولڈز کو منتخب کریں اور اس کے بعد اس سلیکشن پر رائٹ کلک کریں۔ اس کے بعد نمودار ہونے والے کانٹیکسٹ مینو سے اپنی مرضی کے مطابق Upload یا Download منتخب کر لیں۔ آپ فائلوں کو ڈریگ ڈراپ (drag & drop) کے ذریعے بھی ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فائلوں کو منتقلی کی قطار (transfer queue) میں شامل کرنے کے لیے ان پر رائٹ کلک کر کے پاپ اپ مینو سے Add to queue منتخب کریں۔ یہ فائلیں بعد میں منتقل ہوں گی۔ آپ فائلوں کو ڈریگ ڈراپ کے ذریعے بھی اس قطار (queue) میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ٹول بار پر بٹن کلک کرنے سے فائل ٹرانسفر شروع ہو جائے گی۔

امید کرتا ہوں کہ اس ٹیوٹوریل سے دوستوں کو ایف ٹی پی کے بارے میں بنیادی معلومات مل جائیں گی۔
والسلام

مجھ سے دوستی کروگی؟



ہم خیال لوگوں سے رابطہ رکھنا یا آپس میں تبادلہ خیال کرنا انسان کی فطرت میں ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دن بدن انٹرنیٹ پر سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس میں اضافہ نظر آتا ہے۔ ان ویب سائٹس پر ممبران آن لائن پروفائل کے ذریعے اپنا تحریری تعارف، پسند یا نہ پسند، ترجیحات اور تصویریں آویزاں کر تے ہیں۔

عموماً ان ویب سائٹس پر دوسرے ممبران کو ذاتی پیغامات ارسال کرنے، مختلف کمیونٹیز اور فورمز کا قیا‏‏م اور ان میں شمولیت، بلاگز لکھنے اوردوسرے ممبران کو اپنے ہم شناس یا آن لائن دوستوں کے دائرے میں شامل کرنے کی سہولت ہوتی ہے ـ

یوں تو انٹرنیٹ پر ای میل، چیٹ اور آن لائن فورمز بھی رابطہ کا مؤثر ذریعہ ہیں تاہم روز مّرہ زندگی کے تعلقات کو انٹرنیٹ پر منتقل کر نے کے غرض سے انیس سو چھیانوے میں قائم ہو نے والی ویب سائٹ ’سکس ڈگریز ڈاٹ کام‘ پہلی آن لائن سوشل نیٹ ور کنگ ویب سائٹ قرار پائی۔

یہ ویب سائٹ تو سن دو ہزار ایک میں بند ہوگئی مگر وراثت میں صارفین کو انٹرنیٹ پر تعلقات اور روابط قائم کرنے کے ایک نۓ دور سے متعارف کراگئی۔ تب سے لے کر اب تک انٹرنیٹ پر سینکڑوں سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس نمودار ہو چکی ہیں جن میں اورکٹ ، مائی سپیس، زورپیا، لنکڈان وغیرہ جیسی معروف سائٹس شامل ہیں۔

سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہے جتنا کہ انسانی سرگرمیوں کا۔ چاہے آپ دنیا بھر سے پالتو جانور رکھنے کے شوقین لوگوں سے یا پھر اپنے ہم پیشہ افراد سےمیل جول کے خواہش مند ہوں یا پھر انٹرنیٹ پر محبت کی تلاش کر رہے ہوں، ان سب کے لیے مخصوص سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس موجود ہیں۔

انٹرنیٹ پر جہاں سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹس کی تعداد اور مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین بھی اس رجحان سے غیر آشنا نہیں ہیں۔

کیا اس قسم کی ویب سائٹس کا مقصد صرف انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی کرنا ہی ہو تا ہے ؟

سوال یہ ہے کہ اس قسم کی ویب سائٹس پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی آن لائن سرگرمیوں میں کیا اہمیت رکھتی ہیں؟

بائیس سالہ طیبہ اسلام آباد میں سافٹ وئیر انجینئرنگ کی طالبہ ہیں اور روزانہ ایک گھنٹہ انٹرنیٹ پر گزارتی ہیں۔ طیبہ کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ براؤزر کھولنے کے بعد سب سے پہلے اورکٹ کی ویب سائٹ کھولتی ہیں۔ انہوں نے بتایا ’اس ویب سائٹ پر دوستوں اور رشتہ داروں پر مشتمل میرے ہم شناسوں کے دائرہ میں ایک سو دو افراد ہیں۔ میں تین سال سے اورکٹ کی ممبر ہوں اور روزانہ تیس سے چالیس منٹ اس ویب سائٹ پر سکریپس کی صورت میں دوستوں کے پیغامات پڑھنے اور ان کا جواب دینے میں گزارتی ہوں۔ یوں صرف ایک ہی ویب سائٹ پر ہی تمام دوستوں اور ‏‏عزیزوں کی خیریت معلوم کرلیتی ہوں۔‘

دوسری جانب اٹھارہ سالہ علی جواد لاہور میں اے لیول کے طالب علم ہیں اور وہ تین سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس یعنی ’اورکٹ‘، ’مائی سپیس‘ اور ’اپنا دیسی‘ کے ممبر ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس میں سے علی کو مائی سپیس زیادہ پسند ہے ۔ علی کے خیال میں ’مائی سپیس‘ پر ’اورکٹ‘ کی طرح اپنے دوستوں کا دائرہ اور وصول کردہ پیغامات کی تعداد بڑھانے کی اندھی دوڑ کی بجائے لوگوں سے رابطہ کرنے اور نۓ دوست بنانے کی زیادہ سہولت ہےـ مائی سپیس پر روزانہ آدھا گھنٹہ پیغامات کا جواب دینے کے بعد وہ اس ویب سائٹ کی کمیونیٹیز پر وقت گزار کر ریلکس کرنا پسند کر تے ہیں لیکن انٹرنیٹ پر اپنا رفقاء کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے ؟

علی جواد کے مطابق ’ویسے تو میرے دوستوں کا دائرہ کافی وسیع ہے مگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر دنیا بھر سے لوگ موجود ہیں اس طرح بیرون ملک مقیم ہم خیال لوگوں سے دوستی کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔‘

کیا اس قسم کی ویب سائٹس کا مقصد صرف انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی کرنا ہی ہو تا ہے ؟



فہد صدیقی ایک نجی ادارے میں کمپیوٹر نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ دفتری اوقات ان کے کمپیوٹر کے سامنے انٹرنیٹ پر گزرتے ہیں اور دن میں دو تین مرتبہ وہ اورکٹ اور مائی سپیس کی ویب سائٹس پر جاتے ہیں۔ فہد کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر جانے کا مقصد جنس مخالف کی قربت حاصل کرنا ہے۔ فہد کے خیال میں ’بیشتر پاکستانی اسی غرض سے ہی ان ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے میل جول پر مغربی ممالک کی طرح زیادہ آزادی نہیں ہے۔ ویسے بھی دفتری اوقات کی وجہ سےمیرے پاس میل جول اور تفریحی اجتماعات کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا ، اس لیے میں دوستوں کی کمی انٹرنیٹ کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ’ابھی ایک لڑکی سے دوستی ہوئی ہے اور نوبت فون پر بات چیت کرنے تک بھی پہنچ گئی ہے مگر ہم اصل زندگی میں ابھی ملے نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب مارکیٹنگ کے شعبہ سے منسلک میر عباس حسنین ہنزئی کے خیال میں آن لائن سوشل ویب سائٹس کا مقصد اور استعمال صارفین کے عمر اور عملی زندگی کے تجربوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ عباس ’اورکٹ‘ پر سکریپ پیغامات کی صورت میں پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ تو رکھتے ہیں مگران کے لیے اس ویب سائٹ کا سب سے جاذب پہلو اس کی کمیونیٹیز ہیں۔

عباس کے مطابق ذکر چاہے نئے برقی آلات کا ہو یا پھر مارکٹنگ سے متعلق کوئی بات، ان ویب سائٹ کی کمینیٹیوں میں دیگر موضوعات پر بات چیت کرنے والوں کے لیے جغرافیائی سرحدیں کوئی معنی نہیں رکھتیں اور یوں گفتگو اور سوچ کا دائرہ بھی وسیع ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اورکٹ پر برازیل، امریکہ اور بھارت کے بعد پاکستانی ممبران کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔

صحافت کے شعبے سے وابستہ رابیل قدیر بیگ کو اورکٹ استعمال کرتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں اوران کے لیے اب اس ویب سائٹ کے ذریعہ دوستوں اور جاننے والوں کو پیغامات بھیجنا ای میل، ایس ایم ایس یا فون کرنے پر ترجیح لے گیا ہے۔

اس ویب سا‏ئٹ پر اپنے مشاہدہ کا حوالہ دیتے ہوۓ رابیل کہتی ہیں کہ سوشل ویب سائٹس پر پاکستانیوں کے رویہ کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

ایک تو وہ لوگ ہیں جو ان ویب سائٹس کو صرف لڑکیوں یا خواتین ممبران سے دوستی کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ـ ایسےلوگوں کے لیے یہ سائٹس محض چھچھورپن اور دوسروں کو تنگ کرنے کا ذریعہ ہیں ـ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو ان ویب سائٹس کو اپنے تعلقات بڑھانے اور نبھانے کے لیے استعمال کر تے ہیں` ـ
اسے انٹرنیٹ کی وسعت کہیے یا پھر زندگی کی برق رفتاری یا پھر شايد ہماری زندگی میں انٹرنیٹ کا عمل دخل اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہم اب ذاتی تعلقات اور ہم خیال لوگوں سے میل ملاپ اور رابطہ کے لیے بھی انٹرنیٹ پر انحصار کرنے پر مائل ہیں۔ تاہم ان مقاصد کو انجام دینے کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ذرائع اور موقعوں کے درست استعمال کے ساتھ احتیاط اور قسمت بھی ضروری ہیں۔

انتخاب حنا فیصل

جی میل کھل گئی

پیارے دوستو، جی میل نے اپنی اوپن رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اگر کسی دوست کو درکار ہو تو اس پتے پر چلے جائیں

www.gmail.com

دیگر خوبیوں کے ساتھ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا موجودہ سائز 8۔2 گیگا بائٹس کی سٹوریج ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے

اسلام و علیکم!

تمام دوستوں اور عزیزوں کو حنا فیصل اپنے پہلے بلاک پر خوش آمدید کہتی ہے اس پر بہت جلد پوسٹنگ شروع ہو جائے گی تمام دوستوں کی رائے کا انتظار رہے گا